

منصور احمد, August 07,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زرعی تعاون پروگرام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر چین سے جدید زرعی مشینری اور آبپاشی کے آلات کے 258 یونٹس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک کے زرعی شعبے کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تمام جدید آلات پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پارک) کے ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) اسلام آباد میں موصول اور اسمبل کیے۔ باضابطہ افتتاح کے بعد اس مشینری کو پارک اور تمام صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کو 75، سندھ کو 45، خیبرپختونخوا کو 38، بلوچستان کو 36 جبکہ پارک کو 64 یونٹس فراہم کیے گئے ہیں۔
موصول ہونے والے 258 یونٹس میں 9 مختلف اقسام کی مشینری شامل ہے، جن میں 40 ٹریکٹر، 20 روٹری ٹلرز، 30 روٹری ٹلج فرٹیلائزر ڈرلز، 40 کرالر ٹائپ رائس-ویٹ کمبائن ہارویسٹرز، 8 کارن ہارویسٹرز، 40 انٹر ٹلج ویڈرز، 40 ٹرمرز، 20 ہوز ریل آبپاشی نظام اور 20 شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر پمپنگ سسٹمز شامل ہیں۔
یہ تمام معاونت وزیراعظم کے زرعی جدیدکاری اقدام کا حصہ ہے جسے حال ہی میں منظور ہونے والی قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2026ء اور قومی سیڈ پالیسی 2026ء کی مکمل حاصل ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت اعلیٰ کوالٹی کے بیج، جینیاتی تحقیق اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے تجارتی فروغ کے لیے فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا ایک اہم ترین پہلو پارک اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری ہے۔ حکومت نے پارک کو سی اے اے ایس کی طرز پر ازسرِنو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نارک اسلام آباد میں پانچ جدید ‘سینٹرز آف ایکسی لینس’ قائم کیے جا رہے ہیں جو جینوم تحقیق، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈرونز، روبوٹکس اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ پر کام کریں گے۔
علاوہ ازیں، وزیراعظم کے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چین بھیجنے کے تربیتی پروگرام کے تحت اب تک 885 گریجویٹس اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں جبکہ باقی 115 گریجویٹس جلد چین روانہ ہوں گے۔ یہ تمام تربیت یافتہ ماسٹر ٹرینرز ملک بھر کے کسانوں، محققین اور زرعی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرائیں گے۔



