ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: کم جونگ اُن نے میرے رابطوں کا جواب دے دیا ہے

محمود احمد, August 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ان کی جانب سے کیے گئے حالیہ رابطوں کا مثبت جواب دے دیا ہے۔ یہ اہم بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کے حکم کے ٹھیک ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ پیانگ یانگ نے ان کی سفارتی کوششوں کا جواب کیوں نہیں دیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ کم جونگ اُن کا جواب موصول ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اس جواب کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں بھی شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست سفارت کاری شروع کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ 11 روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کو انتہائی مہنگی اور شمالی کوریا کے لیے معاندانہ قرار دیتے ہوئے اپنے وزیرِ دفاع کو ان میں نمایاں کمی کا حکم دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کی امریکی مہم میں ساتھ دینے سے انکار کیا تھا، اسی لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور اقوامِ متحدہ میں شمالی کورین مشن نے فی الحال اس پر باقاعدہ تبصرے سے معذرت کی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2019ء میں دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کے بعد سے شمالی کوریا نے روس اور چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ حال ہی میں یوکرینی حکام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کے تیار کردہ بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر ٹرمپ کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کی بحالی اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

جنوبی کوریا سے ناراضگی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کا حکم

محمود احمد, August 17,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مجوزہ مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ کار فوری طور پر محدود کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے یہ قدم جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں میں عدم تعاون اور مدد سے انکار کے بعد اٹھایا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور یہ مشترکہ فوجی مشقیں نہ صرف انتہائی مہنگی ہیں بلکہ شمالی کوریا کو ایک نامناسب اور دشمنانہ پیغام بھی دیتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے گزشتہ دورِ صدارت کے دوران شمالی کوریا دھمکی آمیز رویے سے گریزاں رہا اور احترام کا مظاہرہ کرتا رہا۔ چونکہ اس وقت مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے انہوں نے وزیرِ دفاع (وزیرِ جنگ) پیٹ ہیگستھ کو ہدایت کی ہے کہ ان کے حجم اور دائرہ کار میں نمایاں کمی لائی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے حال ہی میں جنوبی کورین صدر سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف امریکی مہم میں شمولیت کی درخواست کی تھی جسے انہوں نے رد کر دیا۔ واضح رہے کہ 11 روز پر مشتمل ان مشقوں میں 18 ہزار جنوبی کورین فوجیوں نے حصہ لینا تھا، جس پر شمالی کوریا نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے اسے جنگ کی تیاری قرار دیا تھا۔