ایران کا امریکی شہریوں سے جنگ کا پیادہ نہ بننے کا مطالبہ؛ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی زیرِ زمین مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

محمود احمد, September 05,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں سے زوردار اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اپنے وجود کو ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی میں ‘جنگ کا پیادہ’ بنانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنانے اور اس کے بھاری اخراجات ادا کرنے سے باز رہیں جس کا انہوں نے جمہوری طور پر کبھی انتخاب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو خطے میں بلاوجہ ‘کرائے کے سپاہی’ بننے سے روکیں۔

اسماعیل بقائی کے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے واضح عندیے نے خطے میں جاری شدید کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

تازہ امریکی بیانات اور دھمکیوں میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز ایٹمی مرکز کے قریب واقع انتہائی محفوظ اور گہرے زیرِ زمین مقام ‘کوہِ کلنگ گاز لا’ کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ مقام کئی سالوں سے تعمیر کیا جانے والا ایک انتہائی مضبوط اور بم پروف کمپلیکس ہے، جسے پہاڑوں کی گہرائی کے باعث روایتی فضائی حملوں سے تباہ کرنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔

ایران اس مقام پر کسی بھی قسم کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اور اسرائیلی دعوؤں اور الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں بھی واضح کیا کہ کوہِ کلنگ میں کوئی جوہری یا ایٹمی سرگرمی انجام نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اس سنگین فوجی تنازع کو کم اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک ‘چھوٹا معاملہ’ قرار دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود ‘فوجی تصادم’ کہنا زیادہ مناسب ہوگا جو امریکہ کے لیے ایک محدود نوعیت کا آپریشن ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔

امریکی فٹبال کلب انٹر میامی کا پیراگوئے کے سٹار مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا سے باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا

محمود احمد, September 04,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

امریکی میجر لیگ ساکر کے مشہور اور معروف کلب انٹر میامی نے پیراگوئے سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی مڈفیلڈر میٹیاس گالارزا کو ارجنٹائن کے تاریخی کلب ریور پلیٹ سے قرض کی بنیاد پر حاصل کر کے اپنی ٹیم کا حصہ بنا لیا ہے۔

انٹر میامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ تفصیلات کے مطابق چوبیس سالہ میٹیاس گالارزا کو 2026ء کے میجر لیگ ساکر سیزن کے اختتام تک کے لیے قرض پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ قرض کی مقررہ مدت مکمل ہونے پر انٹر میامی کے پاس انہیں مستقل طور پر خریدنے کا اختیار بھی موجود رہے گا۔

میٹیاس گالارزا نے سال 2022ء میں پیراگوئے کی قومی فٹبال ٹیم کی جانب سے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا تھا اور وہ اب تک اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے انیس بین الاقوامی میچز کھیل چکے ہیں۔ وہ سن دو ہزار چھبیس کے فیفا ورلڈ کپ کے عالمی مقابلے میں بھی پیراگوئے کی قومی ٹیم کے اہم رکن رہے، جہاں ان کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راؤنڈ آف سکسٹین تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس عالمی ٹورنامنٹ کے دوران گالارزا نے ایک گول اسکور کیا جبکہ ایک گول میں اہم معاونت فراہم کی تھی۔

اپنے سابقہ کیریئر میں گالارزا ریور پلیٹ کے علاوہ ٹیلیرس اور امریکی کلب اٹلانٹا یونائیٹڈ کی جانب سے بھی میدان میں اتر چکے ہیں۔ انٹر میامی کے حکام کا کہنا ہے کہ گالارزا کی شمولیت سے ٹیم کے وسطی میدانی شعبے کو مزید مضبوطی اور تحرک حاصل ہوگا۔

انٹر میامی کی انتظامیہ نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ کھلاڑی کی اسکواڈ میں حتمی اور عملی شمولیت ان کے انٹرنیشنل ٹرانسفر سرٹیفکیٹ اور پی ون ویزا کی باضابطہ وصولی سے مشروط رہے گی۔

ایران میں امریکی حملے کے دوران شادی کی تقریب میں شہریوں کی ہلاکت: امریکی سینٹرل کمانڈ نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا

محمود احمد, September 04,2026

واشنگٹن / تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کے روز ایران میں جاری امریکی فضائی حملوں کے دوران ایک شادی کی تقریب پر ہونے والی بمباری اور اس کے نتیجے میں متعدد عام شہریوں کی ہلاکت کی باضابطہ اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی جریدے ‘ایگزیوس’ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ ابھی تک اس بات کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ المناک واقعہ براہِ راست امریکی حملے کا نتیجہ تھا یا نہیں، تاہم اگر تحقیقات میں اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ چھ ماہ قبل امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ شمار ہوگا۔

ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حکام نے انکشاف کیا کہ سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بدھ کے روز اس واقعے کا فوری طور پر اندرونی جائزہ لینے کے سخت احکامات جاری کر دیے ہیں۔

یہ پیشرفت عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی اس رپورٹ کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جس میں اسلحہ جات کے ماہرین کی تجزیاتی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ایرانی شہر ‘کوہستک’ میں شادی کی تقریب پر ہونے والا ہولناک دھماکہ ممکنہ طور پر امریکی گائیڈڈ ہتھیار کے براہِ راست ٹکرانے کے باعث ہوا، اور یہ کسی ایرانی فضائی دفاعی میزائل کی غلط سمت یا بالواسطہ ٹکراؤ کا نتیجہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اس چھ ماہ طویل جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت کا سب سے بڑا اور ہولناک واقعہ جنگ کے بالکل پہلے دن پیش آیا تھا، جب ایرانی شہر کے ایک سکول پر امریکی فضائی حملے میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں بچوں کی اکثریت شامل تھی۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق سکول پر ہونے والے اس حملے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ بھی جلد مکمل کر کے عام کی جائے گی۔

واشنگٹن کو کسی ملک کے دوطرفہ تعلقات پر اجارہ داری کا کوئی حق نہیں: امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا مطالبات پر مبنی خطبہ روس اور چین نے مسترد کر دیا

محمود احمد, September 03,2026

ماسکو/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

روسی فیڈریشن نے امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے دنیا بھر کے ممالک کو ایران کے ساتھ اپنے تمام تر تعلقات، معاشی روابط اور سفارتی حمایت فوری طور پر ختم کرنے کی کھلی اپیل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دھمکی آمیز انداز میں کہا تھا کہ امریکہ تہران پر تاریخی اور غیر معمولی سطح کی اقتصادی پابندیاں عائد کر رہا ہے اور جاری عسکری تنازع کو ختم کرنے کا سب سے تیز ترین طریقہ یہی ہے کہ کوئی بھی ملک یا غیر ملکی حکومت ایرانی حکومت کی کسی قسم کی مدد نہ کرے۔

امریکہ کے اس یکطرفہ مؤقف اور تسلط پسندانہ حکمتِ عملی پر روس اور چین سمیت متعدد عالمی طاقتوں نے انتہائی سخت اور برہم ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

روسی نیوز ایجنسی ’انٹرفیکس‘ کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کے روز ماسکو میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران جیسے ممالک روس کے قابلِ اعتماد شراکت دار اور دیرینہ دوست ہیں، اور ماسکو ان کے ساتھ اپنے دوستانہ، تجارتی اور سٹریٹجک تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ انہیں مزید گہرا اور مضبوط بنائے گا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکی دھمکیوں کو آئندہ کے لیے بے اثر قرار دیتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ امریکہ اب اس پوزیشن یا دنیا کے اس مقام پر بالکل قائم نہیں رہا کہ وہ دوسرے آزاد اور خودمختار ممالک کے دوطرفہ اور عالمی تعلقات پر اپنی ‘اجارہ داری’ اور مرضی قائم کر سکے۔

سینیگال کے لیے آئی ایم ایف کا نیا قرض پروگرام: تکنیکی مذاکرات اور اصلاحات کے جائزہ کے لیے فنڈ کا مشن واشنگٹن سے روانہ

محمود احمد, August 19,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی عملہ ٹیم 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا دو ہفتے طویل اہم دورہ کرے گی۔ اس دورے کے دوران آئی ایم ایف حکام سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت ممکنہ طور پر معاونت حاصل کرنے والی پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور مزید تکنیکی امور پر سینیگالی انتظامیہ کے ساتھ تفصیلی بات چیت جاری رکھیں گے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کا یہ جامع دورہ سینیگال کے لیے ایک نئے معاشی پروگرام کی سمت اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ اس وقت تکنیکی سطح کے مذاکرات کے لیے بالکل تیار ہے جب سینیگال کے حکام خود کو اگلے مرحلے کی بات چیت کے لیے تیار قرار دیں گے۔

آئی ایم ایف کا یہ تازہ اقدام اور دو ہفتوں کا دورہ 2024ء میں سینیگال کی جانب سے قومی قرضوں کی غلط رپورٹنگ کے سامنے آنے والے معاملے کو بحسن و خوبی حل کرنے اور شفافیت قائم کرنے کی کوششوں کا اگلا مرحلہ ہے۔ یاد رہے کہ قرض کے ڈیٹا میں گڑبڑ اور غلط معلومات کی فراہمی کی وجہ سے آئی ایم ایف کا سابقہ قسط اور امدادی پروگرام روک دیا گیا تھا، جس کے بعد اب نئی اصلاحات کی روشنی میں نیا فریم ورک طے کیا جا رہا ہے۔

سینیگال کے لیے نیا قرض پروگرام: آئی ایم ایف کی ٹیم تکنیکی مذاکرات کے لیے 19 اگست کو ڈکار پہنچے گی

محمود احمد, August 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ فنڈ کا وفد 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا اہم دورہ کرے گا۔ اس دو ہفتہ وار دورے کے دوران آئی ایم ایف کی ٹیم سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت مجوزہ پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور تکنیکی امور پر سینیگالی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایم ایف کی مکمل ٹیم کا یہ دورہ سینیگال کے ساتھ نئے معاشی پروگرام کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ سینیگال کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ دورہ ملکی حکام کی آمادگی کے بعد ممکن ہوا ہے۔

یہ مذاکرات سال 2024ء میں سینیگال کے سابقہ حکومت کی جانب سے قومی قرضوں سے متعلق کی جانے والی غلط رپورٹنگ اور غلط اعداد و شمار کے معاملے کو حل کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ اس مالیاتی بے ضابطگی کے باعث آئی ایم ایف نے سینیگال کا سابقہ مالیاتی پروگرام معطل کر دیا تھا۔ اب نئے جائزے اور اصلاحاتی فریم ورک کے بعد سینیگال کے لیے نئے قرض پروگرام کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: کم جونگ اُن نے میرے رابطوں کا جواب دے دیا ہے

محمود احمد, August 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ان کی جانب سے کیے گئے حالیہ رابطوں کا مثبت جواب دے دیا ہے۔ یہ اہم بیان صدر ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کے حکم کے ٹھیک ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ پیانگ یانگ نے ان کی سفارتی کوششوں کا جواب کیوں نہیں دیا، تو انہوں نے واضح کیا کہ کم جونگ اُن کا جواب موصول ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اس جواب کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں بھی شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست سفارت کاری شروع کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ 11 روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کو انتہائی مہنگی اور شمالی کوریا کے لیے معاندانہ قرار دیتے ہوئے اپنے وزیرِ دفاع کو ان میں نمایاں کمی کا حکم دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کی امریکی مہم میں ساتھ دینے سے انکار کیا تھا، اسی لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور اقوامِ متحدہ میں شمالی کورین مشن نے فی الحال اس پر باقاعدہ تبصرے سے معذرت کی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2019ء میں دونوں رہنماؤں کی آخری ملاقات کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جس کے بعد سے شمالی کوریا نے روس اور چین کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔ حال ہی میں یوکرینی حکام نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کے تیار کردہ بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر ٹرمپ کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کی بحالی اور خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

چینی مصنوعات کی چالیس ممالک کے ذریعے امریکہ ترسیل کا الزام، صدر ٹرمپ کا رپورٹ جاری کرنے کا دعویٰ

محمود احمد, August 16,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر سنگین تجارتی دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ٹیرف اور ٹیکسوں سے بچنے کے لیے چینی مصنوعات کو بھارت، اسرائیل، کینیڈا، میکسیکو، اور یورپی یونین سمیت چالیس سے زائد مختلف ممالک کے ذریعے امریکہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک معاون کی تیار کردہ خصوصی رپورٹ شیئر کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی ترسیل اور ری برانڈنگ کے ذریعے سالانہ چالیس ارب سے لے کر تین سو تین ارب ڈالر تک کی ٹیکس چوری کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سلسلہ سال دو ہزار اٹھارہ میں چین پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد سے تیزی سے بڑھا ہے، جس کے تحت چینی سامان پر دوبارہ لیبل لگائے جاتے ہیں، ان کی نئی پیکنگ اور تھوڑی بہت پروسیسنگ کی جاتی ہے، اور رسیدوں میں تبدیلی کر کے سامان کا اصل ماخذ چین کے بجائے کسی اور ملک کو ظاہر کر دیا جاتا ہے۔

امریکی انتظامیہ کی اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی اور مبینہ تجارتی ہیر پھیر کی وجہ سے امریکہ میں اب تک تقریباً ساڑھے چار لاکھ روزگار کے مواقع اور ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، جبکہ وفاقی ٹیکس اور سالانہ قومی مجموعی ملکی پیداوار کی مد میں امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا شدید نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین جن دیگر ملکوں کی سرحدوں اور تجارتی راستوں کو استعمال کر رہا ہے ان میں جاپان، جنوبی کوریا، برازیل، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکیہ، کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار جیسے ممالک شامل ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اب مختلف ممالک پر براہِ راست ٹیرف لگانے کے ساتھ ساتھ ان تمام قانونی اور انتظامی خامیوں کو بند کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے جن کا فائدہ اٹھا کر غیر ملکی درآمد کنندگان امریکی ملازمین، مقامی صنعت کاروں اور ٹیکس دہندگان کو نقصان پہنچا کر اپنا سامان مارکیٹ میں کھپا رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر کے اس بیان اور جاری کردہ رپورٹ پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی اور ایران سے متعلق کشیدگی کی ناکامیوں اور معاشی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ٹیرف جنگ کا پرانا موقف دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔ عالمی امور اور معاشی مسائل کے نامور امریکی ماہر پروفیسر جیفری سیکس نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ معاشی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی مصنوعات اور ان کی عالمی سپلائی چین کے بغیر موجودہ دور میں دنیا کا نظام چلانا ممکن نہیں رہا، اور اگر امریکی یا بین الاقوامی تاجر سستی مصنوعات کے لیے کسی تیسرے ملک میں پروسیسنگ کرتے ہیں تو اس کا تمام تر ملبہ بیجنگ پر ڈالنا نامناسب ہے۔

معاشی ماہرین نے مزید کہا کہ غلط معاشی پالیسیوں اور تجارتی جنگوں کی وجہ سے آج عام امریکی شہری کے لیے خوراک، بنیادی ضروریات، رہائش اور نقل و حرکت کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ناقدین کا الزام ہے کہ حکومت کا تمام تر فوکس معاشی اصلاحات کے بجائے سیاسی مقاصد اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے نجی فوائد حاصل کرنے پر مرثوز ہے، جس کی قیمت امریکی عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔ تاھم چین اور دیگر نامزد کردہ چالیس سے زائد ممالک کی حکومتوں کی جانب سے فی الحال اس امریکی رپورٹ اور صدر ٹرمپ کے ٹوئٹ پر کوئی باقاعدہ یا حتمی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔