

محمود احمد, September 05,2026
تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی شہریوں سے زوردار اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو اپنے وجود کو ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی میں ‘جنگ کا پیادہ’ بنانے کی ہرگز اجازت نہ دیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹوئٹر) پر امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنانے اور اس کے بھاری اخراجات ادا کرنے سے باز رہیں جس کا انہوں نے جمہوری طور پر کبھی انتخاب نہیں کیا تھا۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو خطے میں بلاوجہ ‘کرائے کے سپاہی’ بننے سے روکیں۔
اسماعیل بقائی کے اس بیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے واضح عندیے نے خطے میں جاری شدید کشیدگی کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔
تازہ امریکی بیانات اور دھمکیوں میں صدر ٹرمپ نے ایران کے نطنز ایٹمی مرکز کے قریب واقع انتہائی محفوظ اور گہرے زیرِ زمین مقام ‘کوہِ کلنگ گاز لا’ کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔ یہ مقام کئی سالوں سے تعمیر کیا جانے والا ایک انتہائی مضبوط اور بم پروف کمپلیکس ہے، جسے پہاڑوں کی گہرائی کے باعث روایتی فضائی حملوں سے تباہ کرنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔
ایران اس مقام پر کسی بھی قسم کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق امریکی اور اسرائیلی دعوؤں اور الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ ایرانی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں بھی واضح کیا کہ کوہِ کلنگ میں کوئی جوہری یا ایٹمی سرگرمی انجام نہیں دی جا رہی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری اس سنگین فوجی تنازع کو کم اہمیت دیتے ہوئے اسے ایک ‘چھوٹا معاملہ’ قرار دیا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ کے بجائے ایک محدود ‘فوجی تصادم’ کہنا زیادہ مناسب ہوگا جو امریکہ کے لیے ایک محدود نوعیت کا آپریشن ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ اور غیر مستحکم بنی ہوئی ہے۔












