

کاشف عباسی , September 08,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء
پاکستان نے سعودی عرب کی حدود میں شہری علاقوں اور اہم توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے حالیہ ڈرون و بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں پر ایسے بزدلانہ حملے نہ صرف معصوم انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے نازک امن اور سلامتی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سماجی رابطے کی بین الاقوامی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری کردہ اپنے خاص اور باضابطہ بیان میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں میں شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شریر حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین، سعودی قیادت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے کامل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پرتشدد عسکری کارروائیاں عام انسانی آبادی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ علاقائی توازن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
شہباز شریف نے پرزور انداز میں اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری، ملک گیر سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے مضبوط، تاریخی اور اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے ان حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار اور خصوصی دعا بھی کی ہے۔
پاکستان کی جانب سے یہ اہم سفارتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں کیے گئے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان حملوں سے کچھ توانائی کی تنصیبات کا آپریشن بھی متاثر ہوا ہے۔
دوسری طرف حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن پر ہونے والے حالیہ سعودی فضائی حملوں کے جواب میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے اقتصادی و عسکری مراکز پر جوابی حملہ کیا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف سے بڑھتی ہوئی اس شدید عسکری کشیدگی نے بین الاقوامی تجارتی راستوں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کی سلامتی پر شدید تشویش کے بادل پھیلا دیے ہیں۔