صدر مملکت آصف علی زرداری کی 5 اہم سمریوں اور بلوں کی منظوری: ایکسپورٹ امپورٹ بینک، ایف بی آر اور مالیاتی ترمیمی بل شامل

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک کے مالیاتی و معاشی نظام میں اصلاحات اور بین الاقوامی معاہدوں کی پیش رفت سے متعلق پانچ اہم سمریوں اور بلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، صدر مملکت نے جن اہم آئینی و قانونی بلوں کی توثیق کی ہے ان میں ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2026ء، مالیاتی اداروں کی مالی رقوم کی وصولی (ترمیمی) بل 2026ء اور وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) (ترمیمی) بل 2026ء شامل ہیں۔ ان بلوں کا مقصد ملکی بینکنگ نظام کو مضبوط بنانا، واجب الادا مالیاتی رقوم کی وصولی کو تیز تر کرنا اور ٹیکس دہندگان کے حوالے سے ریونیو فریم ورک میں اصلاحات لانا ہے۔

اس کے علاوہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نمایاں خدمات کے اعتراف میں سید علی محمود کو پاکستان سول ایوارڈ عطا کرنے کی منظوری بھی دی۔ دوسری جانب، بین الاقوامی اور اسلامی سطح پر شفافیت اور بدعنوانی کی روک تھام کے لیے صدر مملکت نے تنظیمِ اسلامی تعاون (OIC) کے رکن ممالک کے انسدادِ بدعنوانی قوانین کے نفاذ میں باہمی تعاون سے متعلق مکہ المکرمہ کنونشن کی باضابطہ توثیق کی منظوری دے دی۔

ججز تقرری کی سمری پر صدارتی منظوری کا تنازع: اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدرِ مملکت کو منظوری کی ہدایت کے لیے آئینی درخواست دائر

منصور احمد, August 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

مختلف ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری کی سمری پر صدرِ مملکت کی جانب سے تاحال منظوری نہ دینے کے معاملے پر قانونی و آئینی تنازع شدید تر ہو گیا ہے، جس کے بعد اس اہم معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے صدر کو سمری فوری منظور کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کر دی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ لقمان ظفر نے ایڈووکیٹ زاہد آصف چوہدری کی وساطت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالتِ عالیہ صدرِ مملکت کو بذریعہ سیکرٹری ہدایت جاری کرے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کی جانب سے بھیجی گئی ججز کی تقرری سے متعلق سمری کو بلاتاخیر منظور کریں۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے رواں سال 20 اور 21 جولائی کو منعقدہ اپنے اجلاسوں میں ملک کی مختلف ہائی کورٹس کے لیے 19 ججز کی تقرری کی سفارشات کی منظوری دے کر سمری ایوانِ صدر ارسال کی تھی، تاہم کافی دن گزر جانے کے باوجود صدرِ مملکت کی جانب سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ ججوں کی تقرری کے آئینی عمل کو مکمل کرنا ریاست کے اہم ستونوں کی کارکردگی اور سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، لہٰذا عدالت صدرِ مملکت کو آئین اور قانون کی روشنی میں فوری طور پر تقرری کی سمری پر صحافتی اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔