عمران خان کی ہسپتال منتقلی پر علیمہ خان کا ردِعمل، انصاف کی فراہمی پر سپریم کورٹ اور عوام کا شکریہ

کاشف عباسی , August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور مکمل طبی علاج کی سہولت فراہم کرنے کے فیصلے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے جذبات اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس انسانی فیصلے پر عدلیہ کے ججز اور مشکل وقت میں ساتھ دینے پر عوام اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہم اس فیصلے پر بے حد خوش ہیں، ایک وقت ایسا آ گیا تھا جب تمام امیدیں ختم ہو چکی تھیں، لیکن بالکل اسی مایوسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے انصاف کا راستہ کھولا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے سیاسی گفتگو اور میڈیا ٹاک پر عائد پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کوئی سیاسی بات نہیں کریں گی، اس لیے انہوں نے تفصیلی گفتگو سے معذرت کی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے باقاعدہ یقین دہانی کروائی ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے بعد پارٹی کی جانب سے ہسپتال کے باہر کسی قسم کا احتجاج، اجتماع یا ہلڑ بازی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور عدالتی احکامات و فراہم کردہ یقین دہانی کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

علیمہ خان کا کوہاٹ میں کارکنوں سے خطاب: “ریاست 24 کروڑ عوام ہیں، تصادم نہیں اتحاد کی ضرورت ہے”

کاشف عباسی , August 02,2026

کوہاٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ اب نہ کسی نے گولیاں کھانی ہیں اور نہ ہی کسی نے گولیاں مارنی ہیں کیونکہ سپاہی اور فوجی بھی ہمارے اپنے ہی بچے ہیں، اور شہادتیں عوام و سپاہیوں دونوں کی ہو رہی ہیں، اس لیے وقت کا تقاضا تصادم کے بجائے اتحاد اور امن ہے۔

کوہاٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ گفتگو کے تناظر میں کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے خود کو ریاست قرار دیتے ہیں، حالانکہ ریاست تنخواہ دار ادارے نہیں بلکہ وہ 24 کروڑ عوام ہیں جو اپنی جیب سے ٹیکس ادا کر کے ان اداروں کو چلاتے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں کے غیور عوام کو غدار یا دہشت گرد قرار دینا انتہائی غیر مناسب طرزِ عمل ہے۔

عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ گردش کرنے والی خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کو بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہے، حالانکہ انہیں پہلے ایسا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا فوری طور پر ہسپتال میں مکمل طبی معائنہ کرایا جائے، مناسب علاج فراہم کیا جائے اور ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا آنے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

علیمہ خان نے پی ٹی آئی کے بنیادی مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق ہر ہفتے 18 افراد کو عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے کیونکہ ملاقاتیں بند کر کے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ مزید برآں، عمران خان کے تمام مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق انصاف مل سکے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن انداز میں آواز بلند کریں اور متحد رہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا خاتمہ صرف اور صرف عمران خان کی رہائی سے ہی ممکن ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں معیشت بہتر تھی اور جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد پر تھی، جبکہ کورونا وبا کے باوجود ملک کو کامیابی سے چلایا گیا، تاہم بعد میں ایک سازش کے تحت حکومت ختم کر کے ملک کو سنگین بحرانوں میں دھکیلا گیا۔