گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سابق برطانوی مشیر کبیر صابر کی ملاقات: تجارت اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

کاشف عباسی , August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے برطانیہ کے سابق مشیر اور لندن سے پارلیمانی امیدوار کبیر صابر نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں باہمی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق تفصیلی گفتگو کی گئی۔

گورنر آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی اس ملاقات کے دوران خیبر پختونخوا میں تجارتی سرگرمیوں، غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے مواقع، انسانی وسائل کی جدید انداز میں تربیت اور صلاحیتوں کی فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا بے پناہ قدرتی وسائل، صلاحیتوں سے مالا مال نڈر اور باصلاحیت نوجوان افرادی قوت اور وسیع تجارتی و معاشی مواقع سے لیس ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا بھر میں مقیم تارکینِ وطن (اوورسیز پاکستانی) اور بین الاقوامی سرمایہ کار خیبر پختونخوا کے بنیادی ڈھانچے اور معاشی بہتری میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر کبیر صابر نے بھی صوبے کی معاشی و انسانی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کے نئے راستے ہموار کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

علیمہ خان کا کوہاٹ میں کارکنوں سے خطاب: “ریاست 24 کروڑ عوام ہیں، تصادم نہیں اتحاد کی ضرورت ہے”

کاشف عباسی , August 02,2026

کوہاٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ اب نہ کسی نے گولیاں کھانی ہیں اور نہ ہی کسی نے گولیاں مارنی ہیں کیونکہ سپاہی اور فوجی بھی ہمارے اپنے ہی بچے ہیں، اور شہادتیں عوام و سپاہیوں دونوں کی ہو رہی ہیں، اس لیے وقت کا تقاضا تصادم کے بجائے اتحاد اور امن ہے۔

کوہاٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ گفتگو کے تناظر میں کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے خود کو ریاست قرار دیتے ہیں، حالانکہ ریاست تنخواہ دار ادارے نہیں بلکہ وہ 24 کروڑ عوام ہیں جو اپنی جیب سے ٹیکس ادا کر کے ان اداروں کو چلاتے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں کے غیور عوام کو غدار یا دہشت گرد قرار دینا انتہائی غیر مناسب طرزِ عمل ہے۔

عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا کہ گردش کرنے والی خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کو بلڈ پریشر کا مسئلہ درپیش ہے، حالانکہ انہیں پہلے ایسا کوئی عارضہ لاحق نہیں تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا فوری طور پر ہسپتال میں مکمل طبی معائنہ کرایا جائے، مناسب علاج فراہم کیا جائے اور ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا آنے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

علیمہ خان نے پی ٹی آئی کے بنیادی مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق ہر ہفتے 18 افراد کو عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جائے کیونکہ ملاقاتیں بند کر کے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ مزید برآں، عمران خان کے تمام مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ انہیں قانون کے مطابق انصاف مل سکے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن انداز میں آواز بلند کریں اور متحد رہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا خاتمہ صرف اور صرف عمران خان کی رہائی سے ہی ممکن ہے۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں معیشت بہتر تھی اور جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد پر تھی، جبکہ کورونا وبا کے باوجود ملک کو کامیابی سے چلایا گیا، تاہم بعد میں ایک سازش کے تحت حکومت ختم کر کے ملک کو سنگین بحرانوں میں دھکیلا گیا۔

خیبرپختونخوا میں ‘آپریشن گرج 11’ کے تحت سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری: متعدد خوارج ہلاک، ٹھکانے تباہ

منصور احمد, August 02,2026

باجوڑ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خیبرپختونخوا میں گزشتہ دو ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے “آپریشن گرج 11” کے تحت موثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مسلسل جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران فورسز نے متعدد خوارج کو جہنم واصل کرتے ہوئے ان کے خفیہ ٹھکانے کامیابی سے تباہ کر دیے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشنز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے متعدد سہولت کاروں کو حراست میں لیا ہے جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ باجوڑ کے علاقے شاکرو میں کی گئی ایک مخصوص انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو انتہائی موثر اور نشانہ انداز میں تباہ کیا۔

باجوڑ میں کی جانے والی ان کامیاب پیش قدمیوں کے دوران متعدد خوارج کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے “آپریشن گرج 11” کے دوران خوارجین کے زیرِ استعمال دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور بموں کو بھی موقع پر ہی ناکارہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ زمینی افواج اور کواڈ کاپٹر ٹیکنالوجی کے امتزاج سے کی جانے والی ان سرجیکل کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو مقامی آبادی سے فرار ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تمام عملیات میں اس بات کو خاص طور پر یقینی بنایا جا رہا ہے کہ عام شہریوں کے جان و مال کا مکمل تحفظ رہے اور مقامی آبادی کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خیبرپختونخوا میں دیرپا امن کے قیام تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔