سمر کیمپ 2026ء؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست، قومی سلامتی اور چیلنجز پر تفصیلی روشنی

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام نوجوانوں میں قومی شعور کی بیداری اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک مقتدر اور اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر نے سمر کیمپ 2026ء میں شریک ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ایک خصوصی تزویراتی نشست کا انعقاد کیا ہے۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، اس منفرد تعلیمی و تربیتی نشست میں پاکستان بھر کے 18 سے زائد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4 ہزار سے زائد طالب علموں نے بھرپور شرکت کی۔ اس خصوصی گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی مجموعی قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور پاکستان کو درپیش داخلی و بیرونی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سمر کیمپ 2026ء میں شریک طلبہ و طالبات نے سیشن کے اختتام پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کی بدولت انہیں پاکستان کو درپیش پیچیدہ داخلی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق انتہائی مؤثر اور گہری آگہی حاصل ہوئی ہے۔ طلبا کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی “فتنہ الہندوستان” اور ملک بھر میں امن کو سبوتاژ کرنے والے “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردانہ اور ناپاک کردار کے بارے میں بھی تادیبی حقائق سے آگاہ کیا گیا، جس سے دشمن کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

نشست کے دوران مقتدر طلبہ و طالبات نے اس بات پر سخت زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات (ففتھ جنریشن وارفیئر) اور منفی پروپیگنڈا سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے، جس کے خلاف نوجوان نسل میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سمر کیمپ میں شریک پاکستان کے مستقبل کے معماروں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف گھیرا تنگ: پاک فوج، ایف سی اور پولیس کا مشترکہ ‘آپریشن شعبان’ کامیابی سے جاری

منصور احمد, JULY 14,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردوں اور شر پسند عناصر کے خلاف مقتدر کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زیرِ اہتمام شروع کیا گیا مشترکہ ’’آپریشن شعبان‘‘ اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں 5 جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 121 خارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی فتنہ الخوارج کے خلاف علاقے میں موثر اور مربوط کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جن کا مقصد صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خارجیوں کے ٹھکانوں کو جدید زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی بدولت دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بھاری اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالیہ موثر کارروائیوں کے دوران مزید 4 خارجی دہشتگردوں کے جہنم واصل ہونے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد صرف ’’آپریشن شعبان‘‘ کے تحت مارے جانے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے، جبکہ دیگر انٹیلی جنس آپریشنز کو ملا کر یہ تعداد 121 تک پہنچ چکی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشتگرد کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہے گا۔