ایک لاکھ کشمیری پاک فوج کا حصہ ہیں، قربانی دینے والوں کو قابض کہنا زیادتی ہے؛ 25 کروڑ آبادی کی ضروریات کے لیے انتظامی ری سیٹ پر عوام اور حکومت غور کریں، اہم پریس کانفرنس

منصور احمد, JULY 31,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں اہم ترین میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی سلامتی و انتظامی ڈھانچے پر پاک فوج کا موقف بالکل واضح اور قطعی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ “پاکستان کا سب سے لاڈلہ بچہ کشمیر ہے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، ہمارے بچے بڑے ہوں گے تو ان کی بھی یہی ایک آواز رہے گی کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔”

ترجمان پاک فوج نے مقبوضہ و آزاد کشمیر کی صورتحال اور پاک فوج پر بلاجواز تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے اور کشمیر بھی ہمارا ہے، مگر دوسری جانب تقاریر میں پاکستان کی فوج کو قابض کہا جا رہا ہے۔ یہ بتائیں کہ اسی پاک فوج میں کم از کم ایک لاکھ کشمیری جوان شامل ہیں، اور کتنے ہی پاکستانی مجاہدین و افواج کے افسران نے کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ انہیں قابض کہنا کسی صورت درست نہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا سیاسی یا مقامی انتظامی امور سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک میں قومی سلامتی، گڈ گورننس اور انتظامی اصلاحات کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی حالات کے مطابق ملک کے انتظامی ڈھانچے اور حکمرانی کے نظام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی کے بغیر درپیش چیلنجز کا موثر حل ممکن نہیں۔

ترجمان پاک فوج نے مزید اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1972ء میں پاکستان کی کل آبادی محض 7 سے 8 کروڑ تھی جو آج بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ تک جا پہنچی ہے، جس کی وجہ سے عوامی ضروریات اور مسائل کا حجم بھی یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ اگر ملک میں بہتر حکمرانی اور عوام کی سہولت کے لیے کسی ‘انتظامی ری سیٹ’ کی ضرورت ہے تو اس پر ضرور غور ہونا چاہیے، تاہم چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام یا نیا فریم ورک بنانے کا حتمی اختیارات صرف عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے۔

سمر کیمپ 2026ء؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست، قومی سلامتی اور چیلنجز پر تفصیلی روشنی

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام نوجوانوں میں قومی شعور کی بیداری اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک مقتدر اور اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر نے سمر کیمپ 2026ء میں شریک ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ایک خصوصی تزویراتی نشست کا انعقاد کیا ہے۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، اس منفرد تعلیمی و تربیتی نشست میں پاکستان بھر کے 18 سے زائد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4 ہزار سے زائد طالب علموں نے بھرپور شرکت کی۔ اس خصوصی گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی مجموعی قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور پاکستان کو درپیش داخلی و بیرونی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سمر کیمپ 2026ء میں شریک طلبہ و طالبات نے سیشن کے اختتام پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کی بدولت انہیں پاکستان کو درپیش پیچیدہ داخلی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق انتہائی مؤثر اور گہری آگہی حاصل ہوئی ہے۔ طلبا کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی “فتنہ الہندوستان” اور ملک بھر میں امن کو سبوتاژ کرنے والے “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردانہ اور ناپاک کردار کے بارے میں بھی تادیبی حقائق سے آگاہ کیا گیا، جس سے دشمن کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

نشست کے دوران مقتدر طلبہ و طالبات نے اس بات پر سخت زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات (ففتھ جنریشن وارفیئر) اور منفی پروپیگنڈا سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے، جس کے خلاف نوجوان نسل میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سمر کیمپ میں شریک پاکستان کے مستقبل کے معماروں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔