نیشنل بینک کی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی اماراتی کمپنی کو منتقل کرنے پر سیکیورٹی خدشات، وزارتِ آئی ٹی کو خط ارسال

منصور احمد, August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

پاک ڈیٹا کام کی جانب سے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کی 400 سے زائد برانچز کی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی متحدہ عرب امارات کی نجی کمپنی ‘یحسات’ پر منتقل کیے جانے کے بعد قومی سلامتی کے تناظر میں شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔ پاک ڈیٹا کام کے سابق سی ای او بریگیڈیئر (ر) سید ذوالفقار علی نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام (آئی ٹی) کو ایک اہم اور تفصیلی خط تحریر کر دیا ہے جس میں اس منتقلی کو ملکی سیکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

خط کے متن کے مطابق نیشنل بینک تمام اہم حکومتی اور حساس مالیاتی اکاؤنٹس کا تحفظ کرتا ہے، اس لیے سیٹلائٹ نیٹ ورک کا غیر ملکی کنٹرول میں جانا قومی سلامتی کے حوالے سے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ پاک ڈیٹا کام گزشتہ 5 سال سے نیشنل بینک کو پاک سیٹ سیٹلائٹ کے ذریعے بیک اپ کنیکٹیویٹی فراہم کر رہا تھا جس کے وی ایس اے ٹی ہبز کراچی اور اسلام آباد میں قائم تھے۔ تاہم اب منتقلی کے بعد یحسات کا سیٹلائٹ اور مین ہب دونوں یو اے ای میں واقع ہیں، جو موجودہ علاقائی صورتحال میں حساس ترین ڈیٹا کی حفاظت پر سوالات اٹھاتا ہے۔

سابق سی ای او نے اپنے خط میں ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارش کی ہے کہ نیشنل بینک کی سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کو بلا تاخیر دوبارہ قومی سیٹلائٹ ‘پاک سیٹ’ پر منتقل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے او جی ڈی سی ایل اور اے جی پی آر کے اہم نیٹ ورکس کو بھی پاک سیٹ پر شفٹ کرنے کی تجاویز دی ہیں۔ خط میں زور دیا گیا ہے کہ ان تمام اہم قومی اداروں کے لیے ایک مخصوص اور محفوظ ملکی سیٹلائٹ نیٹ ورک قائم کیا جائے اور پاک ڈیٹا کام کے کراچی مرکز میں مستقل سیٹلائٹ ہبز کا قیام عمل میں لایا جائے۔

سمر کیمپ 2026ء؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست، قومی سلامتی اور چیلنجز پر تفصیلی روشنی

منصور احمد, JULY 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 جولائی 2026ء

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام نوجوانوں میں قومی شعور کی بیداری اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک مقتدر اور اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر نے سمر کیمپ 2026ء میں شریک ملک بھر کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ایک خصوصی تزویراتی نشست کا انعقاد کیا ہے۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، اس منفرد تعلیمی و تربیتی نشست میں پاکستان بھر کے 18 سے زائد مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4 ہزار سے زائد طالب علموں نے بھرپور شرکت کی۔ اس خصوصی گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملک کی مجموعی قومی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور پاکستان کو درپیش داخلی و بیرونی چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سمر کیمپ 2026ء میں شریک طلبہ و طالبات نے سیشن کے اختتام پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کی بدولت انہیں پاکستان کو درپیش پیچیدہ داخلی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق انتہائی مؤثر اور گہری آگہی حاصل ہوئی ہے۔ طلبا کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی “فتنہ الہندوستان” اور ملک بھر میں امن کو سبوتاژ کرنے والے “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردانہ اور ناپاک کردار کے بارے میں بھی تادیبی حقائق سے آگاہ کیا گیا، جس سے دشمن کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے۔

نشست کے دوران مقتدر طلبہ و طالبات نے اس بات پر سخت زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات (ففتھ جنریشن وارفیئر) اور منفی پروپیگنڈا سوشل میڈیا کے ذریعے انتہائی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے، جس کے خلاف نوجوان نسل میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سمر کیمپ میں شریک پاکستان کے مستقبل کے معماروں نے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔