لبنان کی صورتحال پر سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت

محمود احمد june 02,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 02 جون 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لبنان کی مسلسل بگڑتی ہوئی تزویراتی اور انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے لبنان پر جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں، غیر قانونی زمینی دراندازیوں اور لبنانی علاقوں پر قبضے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے بنیادی منشور (چارٹر) کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

لبنان کے بیس فیصد رقبے پر قبضہ اور شہریوں کی جبری نقل مکانی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقل جنگ بندی کے انتظامات اور تمام تر بین الاقوامی سفارتی کوششوں کے باوجود لبنان میں سلامتی اور انسانی صورتحال لمحہ بہ لمحہ خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اس وقت لبنان کے تقریباً بیس فیصد رقبے پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ قائم ہو چکا ہے، جبکہ وہاں کی مقامی شہری آبادی کو جبری نقل مکانی اور شدید ترین انسانی مشکلات کا سامنا ہے۔

ہزاروں ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر اور امدادی کارکنوں پر حملے پاکستانی مندوب نے ہنگامی اجلاس کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مارچ کے مہینے سے لے کر اب تک ہزاروں معصوم انسان ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لبنانی شہری اپنے ہی ملک میں بے گھر ہو کر در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے طبی عملے، ہسپتالوں اور امدادی کارکنوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کی بھی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بزدلانہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین ترین خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔

ثقافتی ورثے کی تباہی اور ملکی خودمختاری کا مطالبہ سفیر عاصم افتخار احمد نے لبنان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنائے جانے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا یہ اصولی مؤقف ہے کہ لبنان کی قومی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا دنیا بھر میں ہر صورت احترام کیا جائے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عملدرآمد کا مطالبہ پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان ان تمام سفارتی کوششوں کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے جن کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے زور دے کر یہ مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی منظور شدہ تاریخی ‘قرارداد نمبر 1701’ پر فوری اور مکمل عملدرآمد کروایا جائے اور اسرائیلی افواج کا ‘بلیو لائن’ (لبنانی سرحد) تک مکمل انخلا یقینی بنایا جائے۔

لبنانی عوام سے یکجہتی اور عالمی برادری کو پکار پاکستان نے لبنان کی حکومت اور وہاں کے غیور عوام کے ساتھ اپنے مکمل اور برادرانہ یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مستحکم، آزاد اور پرامن لبنان پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی برادری اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے، مزید عسکری کشیدگی کو روکنے اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔

اپنے خطاب کے آخر میں پاکستانی مندوب نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ خطے میں دیرپا اور مستقل امن صرف اور صرف باہمی مذاکرات، سنجیدہ سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ یکطرفہ فوجی اقدامات مسائل کے مستقل حل کے بجائے ہمیشہ نئی اور پیچیدہ جنگی الجھنیں پیدا کرتے ہیں۔