لاہور میں رات کے وقت غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سولر انرجی کی کمی اور لیسکو انتظامیہ کے اخراجات بڑی وجہ قرار

کاشف عباسی , August 17,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے متعدد علاقوں میں رات کے وقت شدید غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کا جینا محال ہو گیا ہے۔ لیسکو ذرائع کے مطابق اقبال ٹاؤن، سبزہ زار، جوہر ٹاؤن، سمن آباد، ملتان روڈ، ہربنس پورہ اور مزنگ جیسے گنجان آباد علاقوں میں دن کے وقت نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی سولر توانائ کی وجہ سے سپلائی معمول کے مطابق رہتی ہے، تاہم رات کے وقت سولر پینلز کا نظام بند ہوتے ہی لیسکو اپنے “کمپنی نقصانات” پورا کرنے کے لیے غیر اعلانیہ بجلی کی بندش شروع کر دیتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فکس چارجز، ٹیکسز اور مختلف سرچارجز میں کئی سو فیصد اضافے کے باوجود لیسکو کے خسارے کا ختم نہ ہونا انتظامی نااہلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاور ڈویژن اور پی پی آئی بی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں اس وقت بجلی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہے، مگر لیسکو اور دیگر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں وصولیوں کے باوجود کم بجلی خرید رہی ہیں تاکہ اپنے مالی اہداف اور افسران کے شاہانہ اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیسکو بورڈ اور اعلیٰ حکام کے نان پروڈکٹیو (غیر پیداواری) اخراجات ماہانہ کروڑوں روپے تک جا پہنچے ہیں، جبکہ دوسری جانب فیلڈ میں عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

دوسری جانب بجلی صارفین نے حکومت اور پاور کمپنیوں کے رویے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں جن کا بل 10 ہزار روپے آتا تھا، اتنے ہی یونٹس کا بل اب 50 ہزار روپے سے تجاویز کر چکا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بجلی کے جھٹکوں اور کم وولٹیج کی وجہ سے شہریوں کے اربوں روپے کے الیکٹرانک آلات کو پہنچنے والے نقصان کا حساب لینے کا بھی ایک طریقہ کار وضع کرے اور لیسکو کے شاہانہ اخراجات ختم کر کے صارفین کو بلوں میں فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔

نجکاری کمیشن بورڈ کا 257واں اجلاس: لاہور و کراچی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ اور لیسکو و میپکو کی نجکاری کے لیے اہم منظوریاں

کاشف عباسی , August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

نجکاری کمیشن بورڈ کا 257واں اہم اجلاس منگل کے روز وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کی آؤٹ سورسنگ سمیت لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی نجکاری کے حوالے سے کلیدی منظوریاں دی گئیں۔

نجکاری کمیشن کے ترجمان کے مطابق بورڈ نے لاہور اور کراچی کے بین الاقوامی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ‘ای وائی پارتھنون’ کی زیرِ قیادت قائم کنسورشیم کو شفاف مسابقتی عمل کے بعد مالیاتی مشیر کے طور پر منتخب کرنے کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی کامیاب کنسورشیم کے ساتھ مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کے خدوخال طے کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی مذاکراتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

اجلاس میں بورڈ نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے شعبے میں لیسکو اور میپکو کی نجکاری کو “بڑی نجکاری” کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی۔ اس اہم فیصلے کے بعد لاگو ضوابط کے تحت ان دونوں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مالیاتی مشیر کی باقاعدہ تقرری کا عمل شروع کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ لیسکو اور میپکو حکومت کی جانب سے طے شدہ نجکاری کے چوتھے مرحلے میں شامل ہیں، جبکہ اس سے قبل کے تین مراحل کا عمل پہلے سے جاری ہے۔

نجکاری کمیشن بورڈ نے حکومتی نجکاری کے ایجنڈے کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر عمل کو مکمل شفافیت، مسابقت اور پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام اور قومی خزانے کو بہترین قیمت حاصل ہو سکے۔