ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تجارتی پابندیوں کے بعد کینیڈا کا امریکی اشیاء پر 20 ارب ڈالر کے جوابی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 25,2026

اوٹاوا/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

کینیڈا کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ یکطرفہ تجارتی پابندیوں اور اضافی ٹیرف کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی محصولات کا ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ کی بنیاد پر بھرپور، مؤثر اور مساوی جواب دے گا، جس کے تحت امریکی سٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو استعمال کے الیکٹرانک آلات، اور دیگر کئی اہم اشیاء پر بھاری جوابی محصولات عائد کیے جائیں گے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کے روز کینیڈین درآمدات کے ایک مخصوص حصے پر پچاس فیصد کے اضافی اور سنگین محصولات عائد کرنے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا تھا۔ یہ نیا امریکی اقدام کینیڈین سٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں، اور لکڑی کی برآمدات پر پہلے سے نافذ العمل امریکی محصولات کے علاوہ تھا جس نے دونوں پڑوسی ممالک کے تجارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، کینیڈین انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے تحت کینیڈا تقریباً 28 ارب کینیڈین ڈالر (جو کہ تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں) کی مجموعی مالیت کی امریکی درآمدی مصنوعات اور تجارتی مال پر پندرہ فیصد سے لے کر پچاس فیصد تک کے بھاری جوابی محصولات نافذ کرے گا۔ کینیڈین وزارتِ تجارت کے مطابق ان نئے جوابی محصولات کا باقاعدہ اطلاق رواں سال آٹھ ستمبر کی نصف شب سے کینیڈا بھر میں نافذ العمل ہو جائے گا، جس سے امریکہ کے زراعت، ٹیکنالوجی، اور انڈسٹریل سیکٹر پر براہِ راست معاشی اثرات مرتب ہوں گے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس تجارتی کشیدگی اور ٹیرف وار سے شمالی امریکہ کی سب سے بڑی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کا اثر عالمی منڈیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کینیڈا کے وزیرِ تجارت نے واضح کیا کہ کینیڈا اپنے قومی اور معاشی مفادات کا تحفظ کرنا اچھی طرح جانتا ہے اور امریکہ کے بلاجواز اقدامات کے سامنے خاموش نہیں رہے گا۔

امریکی ٹیرف کا منہ توڑ جواب: کینیڈا نے 8 ستمبر سے اربوں ڈالر کی امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا

محمود احمد, August 24,2026

اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تین روزہ اہم تجارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں، جس کے فوراً بعد کینیڈا کی حکومت نے امریکی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا باضابطہ اور حتمی اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے پارلیمنٹ ہاؤس اوٹاوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی سٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر سامانِ تجارت پر ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ کی بنیاد پر یکساں جوابی ٹیرف لاگو کرے گا۔

کینیڈا کا یہ انتہائی سخت قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین برآمدات پر 50 فیصد اضافی محصول عائد کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کے اس فیصلے پر کڑا موقف اپناتے ہوئے کہا کہ “جب آپ پر حملہ کیا جاتا ہے تو آپ جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں؛ ہم پر تجارتی حملہ ہوا ہے اور کینیڈا اپنے محنت کشوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری طبقات کے تحفظ کے لیے امریکی ٹیرف کا برابر اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا واشنگٹن کی یکطرفہ شرائط کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اس نئے امریکی اقدام سے کینیڈا کی وائن، ڈیری، فرنیچر، سیمنٹ اور ہاکی کے سامان سمیت تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات شدید متاثر ہوں گی، جبکہ تینوں ممالک کے آزادانہ تجارتی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ کینیڈا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اوٹاوا نے ایک بہترین اقتصادی موقع گنوا دیا ہے اور فی الحال امریکہ کینیڈا سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم کینیڈا میں وزیراعظم مارک کارنی کے اس جرات مندانہ فیصلے کو وسیع عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے بھی حکومتی موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے ملک کے روزگار اور معیشت کی دفاع کے لیے متحد ہونے کا اعادہ کیا ہے۔