

محمود احمد, August 09,2026
انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ خطے میں جاری جنگ، بحرانوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے، جو کہ نیٹو کی طرز کا ایک مضبوط دفاعی اتحاد ہے۔
ترک سرکاری خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاکان فیدان نے واضح کیا کہ ایران یا کوئی اور ملک اس دفاعی معاہدے کا براہِ راست ہدف نہیں ہے، اور جب تک اس اتحاد کے کسی رکن پر حملہ نہیں ہوتا، کسی دوسرے ملک کو اس سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ناگفتہ بہ حالات میں علاقائی ممالک کے درمیان سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں مصر بھی اس اتحاد کا باقاعدہ حصہ بن جائے گا، کیونکہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پہلے ہی مصر کے ساتھ اس انداز میں تعاون کر رہے ہیں جیسے وہ اس باقاعدہ دفاعی اتحاد کے رکن ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ مصر کی شمولیت میں چند تکنیکی اور انتظامی امور باقی ہیں جن کے حل ہوتے ہی مصر اس معاہدے میں باقاعدہ شامل ہو جائے گا۔
ہاکان فیدان نے مزید بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں بنایا گیا، بلکہ صدر رجب طیب اردگان کی سوچ کے مطابق اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر خطے کے دیگر ممالک کو بھی اسی دفاعی چھتری کے نیچے لایا جا سکے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں اس تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کی شقوں کے مطابق کسی بھی ایک رکن ملک پر عسکری یا بیرونی حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ تاریخی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی و بحری آمدورفت شدید متاثر ہو چکی ہے۔