نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 734 ہو گئیں: 2,400 سے زائد افراد لاپتہ، 2,498 شہریوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

محمود احمد, August 30,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیائی ملک نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس قدرتی آفت کے باعث جاں بحق ہونے والے شہریوں کی کل تعداد بڑھ کر 734 ہو گئی ہے، جبکہ 2,400 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ شدید متاثرہ اور کٹے ہوئے علاقوں سے ریسکیو ٹیموں نے اب تک 2,498 افراد کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سیلابی ریلوں اور ملبے کی زد میں آ کر 219 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں مختلف فیلڈ ہسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کی دفاعی و پولیس فورسز اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں اور پلوں کے باعث دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں ہیلی کاپٹرز اور سائنسی آلات کی مدد سے آپریشن کو تیز تر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

نیپال کے سیلاب میں تباہی کی انتہا: ہلاکتیں 675 ہو گئیں، لاشوں کو محفوظ رکھنا ناممکن ہونے پر اجتماعی تدفین شروع، 2,498 افراد ریسکیو

محمود احمد, August 29,2026

کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

جنوبی ایشیا کے پہاڑی ملک نیپال میں آنے والے قیامت خیز سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہ کاریوں اور ہلاکتوں میں مسلسل اور دردناک اضافہ جاری ہے۔ نیپال کے ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہنگامی اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر میں قدرتی آفت کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تصدیق شدہ تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے بتایا کہ سخت کوششوں اور سرچ آپریشن کے نتیجے میں اب تک 2,498 افراد کو خطرناک اور سیلابی علاقوں سے بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل یا ریسکیو کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں 219 افراد شدید زخمی ہیں جنہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیپال کے آفت زدہ اضلاع میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث اب ایک نیا اور دلخراش انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔ ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں اور مقتولین کے مرغزاروں میں سرد خانوں اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے، جبکہ مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے درجنوں لاشوں کی شناخت اور انہیں ورثا کے حوالے کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ گرم موسم اور نمی کے باعث لاشوں کے خراب ہونے کے شدید خطرے کے پیشِ نظر، مقامی انتظامیہ اور نیپالی حکام نے مختلف اضلاع میں برآمد ہونے والی لاشوں کی اجتماعی تدفین اور آخری رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

نیپالی حکام اور ریسکیو اداروں کے مطابق، تباہ شدہ سڑکوں، ٹوٹے ہوئے پلوں اور پہاڑی راستوں پر مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز دیہات تک پہنچنے میں شدید ترین دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ پاک فوج، مقامی پولیس اور بین الاقوامی اداروں کی ہیلی کاپٹر سروسز ریسکیو آپریشن میں متحرک ہیں، تاہم ملبے کے نیچے دبے سینکڑوں لاپتہ افراد کی موجودگی کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ نیپالی حکومت نے بین الاقوامی برادری اور عالمی امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشوں کی تحفظ، شناختی کٹس اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی میں ہنگامی بنیادوں پر مدد کریں۔