

منصور احمد june 02,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء
وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کے بلوں سے پریشان عوام کے لیے بڑا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت دو سو (200) یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے تحفظ یافتہ (پروٹیکٹڈ) صارفین کی سبسڈی کسی صورت ختم نہیں کر رہی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملک کے غریب اور مستحق صارفین کو بدستور ریلیف فراہم کیا جاتا رہے گا۔
سبسڈی کے خاتمے کی افواہیں گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں جاری حالیہ اصلاحات کا بنیادی مقصد غریب صارفین کو زیادہ سے زیادہ معاشی سہولت اور ریلیف فراہم کرنا ہے، جبکہ بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سبسڈی کے خاتمے سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام رپورٹس حقائق کے بالکل منافی اور سراسر گمراہ کن ہیں۔
سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران سرکاری سبسڈی حاصل کرنے والے گھریلو صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اور نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، اس ریلیف سے مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد پچانوے (95) لاکھ سے بڑھ کر اب دو کروڑ پندرہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک بھر کے تقریباً چھیاسی (86) فیصد گھریلو صارفین اس وقت حکومت کی جانب سے کسی نہ کسی صورت میں سستی بجلی یا سبسڈی حاصل کر رہے ہیں۔
مستحقین کے لیے جدید بائیو میٹرک اور تصویری رجسٹریشن کا نظام وفاقی وزیر نے کہا کہ سبسڈی کے اس پورے نظام کو مزید شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنانے کے لیے ایک جدید تصویری اور رمزی کوڈ (کیو آر کوڈ) پر مبنی ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس نئے انتظامی اقدام کا اصل مقصد ملک کے حقیقی مستحق صارفین کا سو فیصد درست ڈیٹا مرتب کرنا اور سبسڈی کی فراہمی کو مزید منظم بنانا ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں نئی رجسٹریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے صارفین سے ان کی بنیادی معلومات حاصل کی جائیں گی۔
بجلی کے بلوں پر کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کی تردید سردار اویس لغاری نے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے واشنگٹن یا آئی ایم ایف کے دباؤ کے حوالے سے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں پر کسی بھی نئے ٹیکس کے نفاذ کی کوئی تجویز اس وقت حکومت کے زیرِ غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور پوری کابینہ بجلی کے نرخوں میں بتدریج کمی لانے اور صارفین کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے اپنے تحریری وعدے پر قائم ہے اور توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
نجی بجلی گھروں سے معاہدوں پر نظرثانی اور ساڑھے تین کھرب روپے کی بچت انہوں نے بتایا کہ ملک کے آزاد بجلی پیدا کرنے والے نجی کارخانوں (آئی پی پیز) کے ساتھ ماضی کے معاہدوں پر کامیاب نظرثانی کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً ساڑھے تین کھرب روپے کی خطیر بچت ممکن ہوئی ہے۔ اسی طرح، بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے انتظامی نقصانات اور بجلی چوری میں نمایاں کمی لا کر ایک سو تریانوے (193) ارب روپے کی بچت حاصل کی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کے مجموعی گردشی قرضے میں سات سو اسی (780) ارب روپے کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
شمسی توانائی اور نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے حکومتی پالیسی وفاقی وزیر توانائی نے شمسی توانائی (سولر سسٹم) کے حوالے سے جاری افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کی مکمل اور اصولی حمایت کرتی ہے اور عوام میں سولر نظام اپنانے کی ہرگز حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گھروں کی بجلی واپس گرڈ کو بیچنے کا نظام (نیٹ میٹرنگ) اپنے اصل قانون کے ساتھ مکمل برقرار ہے، صرف بلنگ کے طریقہ کار کو پہلے سے زیادہ شفاف اور پائیدار بنایا جا رہا ہے تاکہ امیر اور غریب تمام صارفین کو منصفانہ معاشی سہولت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت توانائی کے شعبے میں کڑے احتساب اور اصلاحات کا یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کے بجلی کے نظام کو معاشی طور پر مستحکم، شفاف، چوری سے پاک اور مکمل طور پر عوام دوست بنایا جا سکے۔

