وزارت تجارت کا برآمدی شعبوں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز کا اعلان

منصور احمد, August 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ملکی برآمدات کو فروغ دینے اور صنعتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دیگر اہم برآمدی شعبوں کے لیے 10 ارب روپے (10,000 ملین روپے) کی مالی معاونت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق یہ خطیر رقم ڈیوٹی ڈرا بیک اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اسکیموں کے تحت جاری کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد برآمدی انڈسٹری کو لیکویڈیٹی (مالی روانی) کا ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ صنعتکار اور برآمد کنندگان بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو بہتر بنا سکیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ وزارت تجارت کا یہ فیصلہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت دیگر ایکسپورٹ سیکٹرز کو درپیش مالی مشکلات سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فنڈز کی اس فوری فراہمی سے صنعتوں کی لیکویڈیٹی میں خاطر خواہ بہتری آئے گی اور وہ اپنی برآمدی حجم میں اضافہ کر سکیں گے۔

مالیاتی و صنعتی ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے ملنے والی اس رقم سے پاکستانی برآمد کنندگان کو جدید مشینری اور ٹیکنالوجی اپنانے میں سہولت ملے گی، جس سے نہ صرف مصنوعات کی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی بھی مزید مستحکم ہوگی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ فنڈنگ پاکستان کے برآمدی شعبوں کو خودکفیل بنانے، مقامی انڈسٹری کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی اور ملک میں پائیدار معاشی و برآمدی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کی ترجیحی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

ٹیکسٹائل ویلیو چین کے لیے بڑی پیش رفت: پاکستان نے کپاس کی 14 نئی اور جدید اقسام کی منظوری دے دی

منصور احمد, August 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

پاکستان نے ملک میں کپاس کی پیداوار، معیار اور ٹیکسٹائل ویلیو چین کو تقویت دینے کے لیے 2021ء سے 2025ء کے دوران کپاس کی 14 نئی اور جدید اقسام کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ نئی اقسام اعلیٰ فائبر کوالٹی، زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن شدید گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت اور مہلک گلابی سنڈی کے خلاف مضبوط مزاحمت سے لیس ہیں، جس سے ملک کے بیجوں کے ذخیرے کو تاریخی استحکام حاصل ہوگا۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی اقسام ملک کے دو ممتاز زرعی تحقیقاتی اداروں، سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (CCRI) ملتان اور سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (CCRI) سکرنڈ، سندھ نے تیار کی ہیں۔ سی سی آر آئی ملتان نے 11 جبکہ سی سی آر آئی سکرنڈ نے 3 جدید اقسام تیار کی ہیں۔ سی سی آر آئی ملتان کی منظور شدہ اقسام میں بی ٹی سی آئی ایم-663، بی ٹی سی آئی ایم-678، بی ٹی سی آئی ایم-785، بی ٹی سائٹو-535، سائٹو-226، سی آئی ایم-775، سی آئی ایم-343، سائٹو-537، سائٹو-511، بی ٹی سی آئی ایم-775 اور بی ٹی سی آئی ایم-990 شامل ہیں۔ دوسری جانب سی سی آر آئی سکرنڈ کی جانب سے متعارف کروائی گئی اقسام میں بی ٹی کریس-682، بی ٹی کریس-674 اور کریس-644 شامل ہیں، جنہوں نے سندھ کے کردار کو کپاس کے قومی تحقیقی پروگرام میں مزید مستحکم کر دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان تمام نئی اقسام میں جننگ آؤٹ ٹرن 38.2 فیصد سے 42.3 فیصد، فائبر کی لمبائی 29.6 ملی میٹر تک اور فائبر کی مضبوطی 33.5 تک ریکارڈ کی گئی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق کپاس کی معیار کا تعیّن محض مجموعی پیداوار سے نہیں بلکہ مائیکرونائر، فائبر کی مضبوطی اور جننگ آؤٹ ٹرن جیسے تکنیکی اشاریوں سے کیا جاتا ہے، جو ٹیکسٹائل ملوں، اسپننگ صنعت اور جننگ فیکٹریوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ان تمام اقسام کی تفصیلات کے مطابق سی سی آر آئی ملتان کی تیار کردہ قسم سی آئی ایم-775 نے 42.3 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ جننگ آؤٹ ٹرن ریکارڈ کیا ہے اور اسے کاٹن لیف کرل وائرس کے خلاف انتہائی مزاحم قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح بی ٹی سائٹو-535 نے 41.5 فیصد اور سائٹو-537 نے 41 فیصد جی او ٹی حاصل کیا ہے۔ ریشے کی لمبائی کے اعتبار سے سائٹو-226 نے تمام نئی اقسام میں سب سے زیادہ 29.6 ملی میٹر فائبر کی لمبائی ریکارڈ کی ہے جو اعلیٰ معیار کے کپڑے کی تیاری کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے۔

فائبر کی پائیداری کے حوالے سے سی آئی ایم-343 نے تمام جدید اقسام میں سب سے زیادہ 33.5 فائبر اسٹرینتھ ریکارڈ کی ہے جبکہ یہ قسم خشک سالی اور گلابی سنڈی کے خلاف بھی مکمل موثر ثابت ہوئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بی ٹی سی آئی ایم-663 اور بی ٹی سی آئی ایم-678 شدید گرمی برداشت کرنے اور جلد پکنے والی اقسام ہیں، جبکہ بی ٹی سی آئی ایم-785 میں گرمی اور گلابی سنڈی دونوں کے خلاف مزاحمت یکجا کی گئی ہے۔ سکرنڈ کی تیار کردہ بی ٹی کریس-682 اور بی ٹی کریس-674 کا جی او ٹی 38.5 فیصد رہا، جبکہ نان بی ٹی قسم کریس-644 نے 40.5 فیصد جی او ٹی کے ساتھ زیادہ پیداواری صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان تمام اقسام کا مائیکرونائر 3.5 سے 4.9 کی مثالی حد کے اندر ہے، جو اسپننگ ملز میں بہترین دھاگے کی تیاری کو یقینی بناتا ہے۔