پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں: وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی فارن ٹریڈ ونگز کو ہدایت

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی زیرِ صدارت فارن ٹریڈ ونگز کا ایک اہم داخلی اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی برآمدات کے فروغ، نئی بین الاقوامی منڈیوں کی تلاش اور بیرونِ ملک تجارتی مشنز کی کارکردگی پر تفصیلی غور کیا گیا۔

وزارتِ تجارت کے ترجمان کے مطابق، وفاقی وزیر جام کمال خان نے عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات کی حوصلہ افزا پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایکسپورٹ کو مزید بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ انہوں نے چاول، ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، فارماسیوٹیکلز، پراسیسڈ فوڈ، لائٹ انجینئرنگ اور سروسز کے شعبوں کے لیے نئی اور غیر روایتی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنے پر خصوصی زور دیا اور بی ٹو بی روابط کو مزید مضبوط بنانے کا حکم دیا۔

وزیرِ تجارت نے ہدایت کی کہ فارن ٹریڈ ونگز ہر ملک کے ساتھ تجارت کے لیے علیحدہ اور واضح ایکشن پلان ترتیب دیں تاکہ بین الاقوامی تجارتی معاہدے پاکستان کے لیے متوازن اور فائدے مند ثابت ہوں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زیرِ التوا جوائنٹ ٹریڈ کمیٹیوں کے اجلاس جلد بلائے جائیں اور وزارتِ تجارت، وزارتِ خارجہ، سفارت خانوں اور کاروباری برادری کے مابین رابطہ کاری کو مزید فعال بنایا جائے۔

مالی سال 2026ء میں پاکستان کے گلابی نمک کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں: برآمدی حجم 1.48 لاکھ ٹن سے متجاوز

منصور احمد, August 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان کی جانب سے قدرتی وسائل کی عالمی تشہیر، جغرافیائی شناخت اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ کے نتیجے میں مالی سال 2026ء کے دوران پاکستان کے گلابی نمک کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ برآمدی حجم 1 لاکھ 48 ہزار 71 ٹن سے تجاوز کر گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2025ء میں پنک سالٹ کی برآمدات 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (1,27,924 ٹن) تھیں، جس میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مطابق ملک میں چٹانی نمک کے تخمینہ ذخائر 6 کروڑ 50 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ہیں جن میں 99 فیصد تک خالصیت پائی جاتی ہے۔ حکومت نے اس کی عالمی شناخت مضبوط بنانے کے لیے ‘کھیوڑہ پنک راک سالٹ’ کے نام سے جغرافیائی اشاریہ (GI) رجسٹر کروایا ہے جس کے بین الاقوامی اندارج پر بھی کام جاری ہے۔ برآمدات کی شفافیت کے لیے کسٹمز میں مخصوص ایچ ایس کوڈ (2501.0021) متعارف کروایا گیا ہے جبکہ انڈر انوائسنگ روکنے کے لیے کم از کم برآمدی قیمت 130 ڈالر فی میٹرک ٹن مقرر کی گئی ہے۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) نے ورلڈ ایکسپو 2025ء اوساکا سمیت گلف فوڈ یو اے ای، انوگا جرمنی اور سیال فرانس جیسی بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستانی پنک سالٹ کی بھرپور برانڈنگ کی ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے اس منفرد قدرتی ورثے اور معاشی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔

سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی و کاروباری تعاون میں پیش رفت: چینی وفد کی احسن اقبال سے ملاقات، برآمدات میں اضافے اور بی ٹو بی شراکت داری پر اتفاق

محمود احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی اور کاروباری تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اقتصادی امور پریس کے سینئر ایڈوائزر سن ڈونگ شینگ کی قیادت میں سی پیک سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور سینیئر پالیسی سازوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے چینی وفد کو پاکستان کے قومی اقتصادی ایجنڈے ”اڑان پاکستان“ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج برآمدات کی کمزور بنیاد ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین سالانہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر کے قریب ہے، جسے بڑھانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالا اور اب سی پیک 2.0 کے ذریعے پاکستان اپنے برآمدی خسارے پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تحت آٹومیشن، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 کا اصل محور کاروبار سے کاروبار تعاون ہے، جس کے تحت صنعتی، زرعی اور معدنی شعبوں میں علاقائی و عالمی سطح پر نجی شعبوں کا اشتراکِ عمل ضروری ہے۔

چینی وفد کے سربراہ مسٹر سن ڈونگ شینگ نے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک فیز ون کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے زراعت، صنعت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی شمولیت اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔

اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک 2.0 کے پانچ کوریڈورز اور پاکستان کے ”اڑان پاکستان“ فریم ورک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، مسابقت، اور کاروباری شراکت داری کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

وزارت تجارت کا برآمدی شعبوں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے 10 ارب روپے کے فنڈز کا اعلان

منصور احمد, August 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ملکی برآمدات کو فروغ دینے اور صنعتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دیگر اہم برآمدی شعبوں کے لیے 10 ارب روپے (10,000 ملین روپے) کی مالی معاونت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

وزارت تجارت کے مطابق یہ خطیر رقم ڈیوٹی ڈرا بیک اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اسکیموں کے تحت جاری کی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد برآمدی انڈسٹری کو لیکویڈیٹی (مالی روانی) کا ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ صنعتکار اور برآمد کنندگان بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو بہتر بنا سکیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ وزارت تجارت کا یہ فیصلہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت دیگر ایکسپورٹ سیکٹرز کو درپیش مالی مشکلات سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فنڈز کی اس فوری فراہمی سے صنعتوں کی لیکویڈیٹی میں خاطر خواہ بہتری آئے گی اور وہ اپنی برآمدی حجم میں اضافہ کر سکیں گے۔

مالیاتی و صنعتی ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن کے لیے ملنے والی اس رقم سے پاکستانی برآمد کنندگان کو جدید مشینری اور ٹیکنالوجی اپنانے میں سہولت ملے گی، جس سے نہ صرف مصنوعات کی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی بھی مزید مستحکم ہوگی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ یہ فنڈنگ پاکستان کے برآمدی شعبوں کو خودکفیل بنانے، مقامی انڈسٹری کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی اور ملک میں پائیدار معاشی و برآمدی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کی ترجیحی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔