’پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے‘: پشاور ورکرز کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کا شدید خطاب، مقتدرہ اور حکومت پر کڑی تنقید

کاشف عباسی , August 23,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صرف اور صرف پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جو اختیارات منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہونے چاہئیں تھے وہ مقتدرہ کے ایک فرد واحد کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ پشاور میں منعقدہ جے یو آئی (ف) کے بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورت حال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ہمیں اس بات پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں کہ کوئی آرمی چیف بنے، چیف آف ڈیفنس فورسز یا فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالے، لیکن فیصلے کرنے کا اصل دائرہ اختیار پارلیمنٹ کا ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم ترین قومی و آئینی فیصلوں کی منظوری کو وفاقی حکومت سے مشروط کر کے پارلیمنٹ کو عملی طور پر فیصلوں کے عمل سے بالکل باہر نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کے ساتھ کافر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم، نا انصافی اور جبر کے ساتھ کسی مسلمان کی حکومت بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ انہوں نے راولاکوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں عوام تین ماہ سے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر انتظامیہ اور حکمران ان سے بات تک کرنے کو تیار نہیں۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ملک میں جاری بحث پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی نہ تو کوئی سیاسی و انتظامی تیاری ہے اور نہ ہی ویسا سازگار ماحول موجود ہے، بلکہ ایک مخصوص ادارے کی خواہش کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک میں اقلیتی حکومت کی حکمرانی کا الزام عائد کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف جب بھی بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں تو آرمی چیف کو لازمی ساتھ لے کر جاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ساتھ نہ ہوں تو عالمی سطح پر ان کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں۔