ڈیرہ اسماعیل خان میں ایس آئی یو ٹی کے قیام کی کاوشیں قابلِ تحسین: رجب علی شیخ کی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

محمود احمد, August 25,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رجب علی شیخ نے گورنر ہاؤس پشاور میں اہم ملاقات کی، جس کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان کی علاقائی ترقی اور عوامی بہبود کے مختلف منصوبوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر ہاؤس پشاور کے ترجمان کے مطابق، ملاقات میں رجب علی شیخ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) کے قیام کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کی انتھک کاوشوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی یو ٹی کا قیام نہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان بلکہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ پنجاب اور بلوچستان کے ملحقہ اضلاع کے عوام کے لیے بھی صحت کے شعبے میں ایک عظیم تحفہ ثابت ہو گا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس موقع پر اعادہ کیا کہ صوبے خصوصاً پسماندہ اضلاع میں معیاری طبی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی فراہم حکومت اور ان کی ترجیحات میں شامل ہے تا کہ عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔

’پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے‘: پشاور ورکرز کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کا شدید خطاب، مقتدرہ اور حکومت پر کڑی تنقید

کاشف عباسی , August 23,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صرف اور صرف پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جو اختیارات منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہونے چاہئیں تھے وہ مقتدرہ کے ایک فرد واحد کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ پشاور میں منعقدہ جے یو آئی (ف) کے بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورت حال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ہمیں اس بات پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں کہ کوئی آرمی چیف بنے، چیف آف ڈیفنس فورسز یا فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالے، لیکن فیصلے کرنے کا اصل دائرہ اختیار پارلیمنٹ کا ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم ترین قومی و آئینی فیصلوں کی منظوری کو وفاقی حکومت سے مشروط کر کے پارلیمنٹ کو عملی طور پر فیصلوں کے عمل سے بالکل باہر نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کے ساتھ کافر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم، نا انصافی اور جبر کے ساتھ کسی مسلمان کی حکومت بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ انہوں نے راولاکوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں عوام تین ماہ سے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر انتظامیہ اور حکمران ان سے بات تک کرنے کو تیار نہیں۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ملک میں جاری بحث پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی نہ تو کوئی سیاسی و انتظامی تیاری ہے اور نہ ہی ویسا سازگار ماحول موجود ہے، بلکہ ایک مخصوص ادارے کی خواہش کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک میں اقلیتی حکومت کی حکمرانی کا الزام عائد کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف جب بھی بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں تو آرمی چیف کو لازمی ساتھ لے کر جاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ساتھ نہ ہوں تو عالمی سطح پر ان کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں۔

پشاور میں قونصل خانہ بند ہونے سے امریکہ کی خیبر پختونخوا میں دلچسپی ختم نہیں ہوئی: تھامس ایکرٹ

محمود احمد, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں آخری امریکی قونصل جنرل تھامس ایکرٹ نے کہا ہے کہ پشاور میں امریکی قونصل خانہ بند کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ کی خیبر پختونخوا کے خطے میں دلچسپی ختم ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجئس افیئرز کی جانب سے منعقدہ ایک الوداعی تقریب اور ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قونصلر خدمات، تجارتی و کاروباری روابط کے فروغ، سیکیورٹی تعاون کی مضبوطی اور خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کے ساتھ شراکت داری استوار کرنے کی سفارتی کوششیں مستقبل میں بھی بدستور جاری رہیں گی۔

پشاور میں امریکی قونصل خانے کی باقاعدہ بندش کے بعد اب خیبر پختونخوا کے ساتھ تمام سفارتی اور عوامی روابط کی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ تھامس ایکرٹ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اور تجربہ کار سفارت کار ہیں جو اپریل دو ہزار تین سے امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ ہیں۔ اپنے بائیس سالہ سفارتی کیریئر کے دوران انہوں نے گبون، ویتنام، برما اور قبرص میں اہم خدمات انجام دی ہیں، جبکہ وہ دو مرتبہ بغداد (عراق) میں سیکیورٹی آپریشنز کی نگرانی اور بغداد ایمبیسی سیکیورٹی فورسز کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کابل (افغانستان) میں عارضی ڈیوٹی کے دوران اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں بھی ادا کی تھیں۔