پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ کا تناظر: راولپنڈی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے اہم شخصیت کی رات گئے ملاقات کا سنسنی خیز دعویٰ

منصور احمد,September 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء

صحافی اور وی لاگر اسد طور نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو متوقع احتجاجی مارچ کے پیشِ نظر طاقتور حلقے متحرک ہو چکے ہیں، اور اسی سلسلے میں ایک انتہائی اہم شخصیت نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے خصوصی ملاقات کی ہے۔

اپنے ایک تازہ ترین بیانیے میں اسد طور نے دعویٰ کیا کہ یہ انتہائی حساس ملاقات رات گئے اڈیالہ جیل کے اندر ہوئی، جو تقریباً رات 1:30 بجے سے شروع ہو کر صبح 4:00 بجے تک جاری رہی۔ ان کے مطابق متعلقہ ادارے کا ایک اعلیٰ افسر ایک اہم شخصیت کے ہمراہ بغیر کسی بڑے روایتی پروٹوکول کے خاموشی سے جیل پہنچا، جہاں انہوں نے عمران خان کے ساتھ سیاسی امور اور موجودہ تناؤ پر طویل تبادلہ خیال کیا۔

صحافی نے مؤقف اختیار کیا کہ 27 ستمبر کے مجوزہ پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کی کال نے اقتدار کے ایوانوں میں سیاسی دباؤ اور بے چینی میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث بیک ڈور رابطوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے اس وی لاگ یا گفتگو کے دوران ملاقات کے لیے آنے والی مبینہ اہم شخصیت کا نام عام کرنے سے گریز کیا۔

اسد طور کے مطابق حالیہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے مختلف رہنماؤں کے درمیان بھی رابطوں کے اشارے ملے ہیں اور خود پی ٹی آئی قیادت نے حکومتی فریقین کے ساتھ بعض رابطوں کا اشارہ دیا ہے، تا ہم ان پس پردہ مذاکرات کے حتمی نتائج اور نوعیت ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آ سکی ہے۔

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے اعلان کے بعد ملک کا سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی خاصا بلند ہے۔ اس تناظر میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی ممکنہ سیاسی راستے، درمیانی حل یا مفاہمت کے امکانات سے متعلق یہ دعویٰ خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

تاہم، اس مبینہ ملاقات، اس کے وقت اور مندرجات کے حوالے سے اڈیالہ جیل انتظامیہ، وفاقی حکومت، تحریک انصاف کی باضابطہ قیادت يا عمران خان کے وکلاء کی جانب سے کوئی سرکاری یا باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر مکمل طور پر صحافی و وی لاگر اسد طور کی جانب سے کیے گئے دعوے پر مبنی ہے۔ اڈیالہ جیل میں رات گئے کسی ملاقات، اس میں شریک شخصیت یا طے پانے والے امور کی تاحال کسی بھی سرکاری، عدالتی یا باضابطہ ذرائع سے آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اس لیے اسے حتمی حقیقت کے بجائے ایک منسوب دعوے کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔

ماخذ: اردو پوائنٹ، صحافی اسد طور کے بیانات/وی لاگ۔

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات: صوبائی ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی امور پر اہم مشاورت

کاشف عباسی , August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی دارالحکومت میں اہم ملاقات کی، جس میں صوبہ سندھ کے عمومی امور اور وفاق کے زیرِ اہتمام جاری اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران صوبے کی معاشی و انتظامی صورتحال، وفاق اور صوبے کے باہمی تعلقات اور ملک کی مجموعی سیاسی فضا پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اجلاس میں دونوں رہنماؤ ں کی جانب سے ملک میں سیاسی رواداری کو فروغ دینے اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ وفاقی و صوبائی معاملوں کو آگے بڑھانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ میں عوامی فلاح کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کی معاشی ترقی کو مزید رفتار مل سکے۔

’پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے‘: پشاور ورکرز کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کا شدید خطاب، مقتدرہ اور حکومت پر کڑی تنقید

کاشف عباسی , August 23,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اگست 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں صرف اور صرف پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جو اختیارات منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہونے چاہئیں تھے وہ مقتدرہ کے ایک فرد واحد کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ پشاور میں منعقدہ جے یو آئی (ف) کے بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی موجودہ سیاسی و آئینی صورت حال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ہمیں اس بات پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں کہ کوئی آرمی چیف بنے، چیف آف ڈیفنس فورسز یا فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالے، لیکن فیصلے کرنے کا اصل دائرہ اختیار پارلیمنٹ کا ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اہم ترین قومی و آئینی فیصلوں کی منظوری کو وفاقی حکومت سے مشروط کر کے پارلیمنٹ کو عملی طور پر فیصلوں کے عمل سے بالکل باہر نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف کے ساتھ کافر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم، نا انصافی اور جبر کے ساتھ کسی مسلمان کی حکومت بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ انہوں نے راولاکوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں عوام تین ماہ سے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر انتظامیہ اور حکمران ان سے بات تک کرنے کو تیار نہیں۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ملک میں جاری بحث پر گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی نہ تو کوئی سیاسی و انتظامی تیاری ہے اور نہ ہی ویسا سازگار ماحول موجود ہے، بلکہ ایک مخصوص ادارے کی خواہش کو زبردستی قوم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک میں اقلیتی حکومت کی حکمرانی کا الزام عائد کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف جب بھی بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں تو آرمی چیف کو لازمی ساتھ لے کر جاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ساتھ نہ ہوں تو عالمی سطح پر ان کی بات کوئی سننے کو تیار نہیں۔

راولپنڈی واقعہ نے پی ٹی آئی کے مذموم عزائم بے نقاب کر دیے، تشدد کی سیاست ان کا وطیرہ ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ

منصور احمد, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ تشدد اور انارکی کی سیاست پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دیرینہ وطیرہ بن چکی ہے اور وہ کبھی پرامن احتجاج پر یقین نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور قومی ترقی کے جاری سفر کو روکنا ہے، جبکہ راولپنڈی میں ہونے والے تازہ فائرنگ کے واقعے نے ان کے مذموم ایجنڈے کو پوری قوم کے سامنے واضح کر دیا ہے۔

منگل کے روز راولپنڈی مال روڈ پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے پر اپنے خصوصی ردِعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلح ہو کر آنا اور سیکیورٹی اہلکاروں پر دن دیہاڑے فائرنگ کرنا ناقابلِ برداشت اور شدید قابلِ مذمت عمل ہے جس کا کوئی قانونی یا سیاسی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے مسلح احتجاجوں کے دوران پولیس اور رینجرز کے اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور آج کے واقعے سے بھی ملزم کے قبضے سے پارٹی کا پرچم اور دیگر اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جو ان کے نظریے کی عکاسی کرتی ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی لانگ مارچ کی کال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کوئی اہم سفارتی و معاشی کامیابی ملتی ہے یا اہم معاہدے طے پاتے ہیں، پی ٹی آئی فوری طور پر ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے جیسی عظیم بین الاقوامی کامیابی اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی عزّت ان سے ہضم نہیں ہو رہی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان کے اختتام پر عزم ظاہر کیا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان ترقی، خوشحالی اور استحکام کے راستے پر کامیابی سے گامزن رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی قیادت عوام کی بہتری کے لیے دن رات کوشاں ہے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے عناصر کو ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔