

محمود احمد, August 30,2026
کاٹھمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء
نیپال میں آنے والے تباہ کن اور اچانک سیلاب کے بعد شدید کٹاؤ کے باعث ملک کی انتہائی اہم اور مرکزی شاہراہ ‘پرتھوی ہائی وے’ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جس سے اہم مواصلاتی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔ نیپال کے شعبہ روڈز (محکمہ سڑک جات) کے سربراہ و ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی نے باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ راسووا کے علاقے میں آنے والے ہولناک سیلاب کے بعد یہ ملک کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے (شاہراہیں اور پل) کو پہنچنے والا سب سے بڑا اور سنگین ترین نقصان ہے۔
محکمے کے ڈائریکٹر جنرل وجے جائسی کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے فوراً بعد دھاڈنگ ضلع کے علاقے ‘کرشنابھیر’ میں زمین اور سڑک کے کٹاؤ کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جبکہ اتوار کی صبح پہاڑوں سے آنے والے ایک اور شدید سیلابی ریلے نے تباہی پھیلاتے ہوئے صورتحال کو مزید تشویشناک اور سنگین بنا دیا ہے۔ شدید کٹاؤ کے باعث مرکزی شاہراہ کا بڑا حصہ دریا میں بہہ چکا ہے اور گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہو گئی ہے۔
حالات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے وجے جائسی نے مسافروں، ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے لیے فوری طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔ محکمہ سڑک جات کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے محکمے کے 19 اہم پل متاثر یا تباہ ہوئے ہیں، جبکہ نواکوٹ سے سیافروبیسی اور رسووا گڑھی تک تقریباً 40 کلومیٹر طویل سڑک کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ محکمے نے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دے کر بحالی کا کام شروع کر دیا ہے تاہم مسلسل بارشوں کے باعث سڑک کھودنے اور بحال کرنے میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔