راولپنڈی تعلیمی بورڈ کا انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نقل مافیا کے خلاف سخت کریک ڈاؤن؛ جدید ترین کمانڈ سینٹر سے مانیٹرنگ جاری

منصور احمد june 01,2026

راولپنڈی(نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی امتحانی نظام کے وژن، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایات پر راولپنڈی میں انٹرمیڈیٹ امتحانات کو شفاف بنانے کے لیے بڑے اقدامات سامنے آئے ہیں۔ کمشنر و چیئرمین تعلیمی بورڈ راولپنڈی انجینئر عامر خٹک کی مؤثر حکمت عملی کے تحت انٹرمیڈیٹ اول سالانہ امتحان 2026ء میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے ریئل ٹائم مانیٹرنگ بورڈ حکام کے مطابق، امتحانی عمل کی سخت نگرانی کے لیے ایک جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تمام امتحانی مراکز کی لائیو (ریئل ٹائم) مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں اور بورڈ کے اعلیٰ افسران مختلف امتحانی مراکز کے مسلسل دورے کر رہے ہیں تاکہ امتحانات کے انعقاد میں شفافیت، میرٹ اور غیر جانبداری کے اصولوں پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

امتحانی مرکز میں نقل کرتے ہوئے امیدوار رنگے ہاتھوں گرفتار کنٹرولر امتحانات تعلیمی بورڈ راولپنڈی تنویر اصغر اعوان کی خصوصی ہدایات پر امتحانی مراکز میں جاری سخت نگرانی کے دوران ایک بڑی کامیابی ملی ہے، جہاں ایک اُمیدوار کو نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ امتحانی ضوابط کے سخت قانون کے مطابق، نقل کرنے والے اُمیدوار کے خلاف فوری طور پر کیس رجسٹر کر لیا گیا ہے اور فائل کو مزید سخت قانونی کارروائی کے لیے ڈسپلن برانچ بھجوا دیا گیا ہے۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کا انتباہ کنٹرولر امتحانات تنویر اصغر اعوان نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ تعلیمی بورڈ راولپنڈی امتحانات کے شفاف انعقاد، حقیقی حقدار طلبہ کے میرٹ کے تحفظ اور بوٹی مافیا یا نقل کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں خبردار کیا کہ امتحانی ضابطہ اخلاق کی معمولی سی خلاف ورزی بھی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور قواعد و ضوابط کے مطابق ہر کسی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے تمام طلبا اور اُمیدواروں کو مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ صرف اپنی صلاحیتوں اور دن رات کی محنت پر اعتماد کرتے ہوئے امتحانات میں حصہ لیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا شارٹ کٹ سے دور رہیں۔

شفافیت اور احتساب کے فروغ کا عزم تعلیمی بورڈ راولپنڈی کی انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امتحانی نظام میں اعلیٰ درجے کی شفافیت، دیانتداری اور کڑے احتساب کے فروغ کے لیے بورڈ کے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، تاکہ محنتی طلبہ کو ایک منصفانہ، پرامن اور سازگار امتحانی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

پنجاب میں سولر اور نجی بجلی پیدا کرنے والے بڑے صنعتی و تجارتی یونٹس پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کی تیاری

منصور احمد june 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبے میں نجی طور پر اپنی بجلی خود پیدا کرنے والے بڑے صنعتی اور تجارتی اداروں پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس نئے حکومتی اقدام کے تحت اب سولر پاور سسٹمز (سولر پینلز) اور نجی جنریٹرز کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے تمام کمرشل اور صنعتی یونٹس سے بھی باقاعدہ سرکاری ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔

باقاعدہ فریم ورک تیار اور فی یونٹ ڈیوٹی کا تعین سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومتِ پنجاب نے اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک باقاعدہ اور جامع فریم ورک تیار کر لیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کرنے والے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں پر “فی یونٹ 4 پیسے” کے حساب سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی نافذ کی جائے گی، جو ان کے پیداواری بلوں میں شامل ہوگی۔

گیارہ سو سے زائد صنعتی و تجارتی مقامات دائرہ کار میں شامل حکومتی منصوبے کے مطابق، صوبے بھر میں قائم تقریباً ایک ہزار ایک سو ستتر (1177) بڑے صنعتی اور تجارتی مقامات کو اس نئی ڈیوٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نجی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کا مکمل اور شفاف ریکارڈ مرتب کرنا اور صوبے میں توانائی کے شعبے میں نگرانی کے نظام کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

سولر اور سیلف جنریشن سسٹمز کو دستاویزی بنانے کا فیصلہ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت نے سولر توانائی سمیت تمام بڑے سیلف جنریشن سسٹمز کو مکمل طور پر دستاویزی (ڈاکیومنٹڈ) نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نجی طور پر پیدا کی جانے والی بجلی کے درست اعداد و شمار کو سرکاری سطح پر باقاعدہ طور پر محفوظ رکھنا اور صوبائی ریونیو (آمدن) کی وصولی کے نظام کو مزید وسعت دینا ہے۔

صنعتی لاگت میں اضافے کا خدشہ اور کاروباری حلقوں کی تشویش اقتصادی اور توانائی کے ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے پنجاب حکومت کی سرکاری آمدنی میں تو یقیناً اضافہ متوقع ہے، تاہم دوسری جانب صنعتی اور تجارتی شعبے میں بجلی کی مجموعی لاگت مزید بڑھنے کا واضح امکان پیدا ہو گیا ہے۔ کاروباری اور تاجر حلقوں نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولر توانائی اور نجی بجلی پیدا کرنے کے نظام پر اس قسم کے اضافی مالی بوجھ سے کارخانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے منفی اثرات مارکیٹ کے مختلف دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اس مجوزہ ڈیوٹی کے باقاعدہ نفاذ، تاریخ اور وصولی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلی گائیڈ لائنز جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔