

منصور احمد, JULY 25,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جولائی 2026ء
پاکستان نے پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چاول کی پیداوار اور کھیتوں کی کارکردگی بڑھانے کے لیے چھ سالہ میگا پی ایس ڈی پی منصوبہ “پروڈکٹیویٹی انہانسمنٹ آف رائس” کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 2019ء سے 2025ء تک جاری رہنے والے اس مربوط منصوبے کا بنیادی مقصد جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، اور معیاری زرعی وسائل کے ذریعے چاول کی حقیقی اور متوقع پیداوار کے درمیان فرق کو کم کرنا تھا۔ اس پروگرام کے تحت کسانوں کو لیزر لینڈ لیولرز، مکینیکل رائس ٹرانسپلانٹرز اور کمبائن ہارویسٹرز جیسے جدید آلات 50 فیصد لاگت کی شراکت پر فراہم کیے گئے، جبکہ ڈائریکٹ سیڈڈ رائس پریسیژن فارمنگ اور سمارٹ ایگریکلچر کے طریقوں کو عام کیا گیا۔ پانی کے مؤثر استعمال کے لیے ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن، ڈرپ اریگیشن اور الٹرنیٹ ویٹنگ اینڈ ڈرائنگ جیسی جدید تکنیکیں متعارف کروائی گئیں۔ مزید برآں، انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور چین کے بین الاقوامی تعاون سے بیماریاں برداشت کرنے والی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ چاول کی زیادہ پیداوار دینے والی نئی اقسام تیار کر کے ملکی زراعت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا گیا ہے۔