

کاشف عباسی , September 14,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ اور احتجاجی فرنٹ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی میں انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال اور مظاہرین کی پیش قدمی روکنے کے لیے شہر کی اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر کنٹینرز کی تنصیب شروع کر دی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر 150 کنٹینرز 26 نمبر چونگی، روات، اور مارگلہ ایونیو سمیت حساس مقامات پر پہنچا دیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس انتظامیہ نے ٹھیکیداروں کو ریڈ زون اور تمام مرکزی شاہراہوں کی ناطہ بندی کے لیے 1,000 سے زائد مزید کنٹینرز تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اور پنجاب بھر میں امن و امان کے قیام اور ممکنہ دہشت گردی کی اطلاعات کے پیشِ نظر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ کر کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تھری ایم پی او (3-MPO) کے تحت پیشگی کارروائیاں کرتے ہوئے جڑواں شہروں سے متحرک سیاسی کارکنوں کی حراست اور نظر بندی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
دوسری جانب، اسلام آباد ہائیکورٹ میں مارچ کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومت کی سرکاری مشینری کو سیاسی مقاصد اور احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سیاسی ہلچل کے ساتھ جماعت اسلامی نے بھی پٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے، جس کے بعد ستمبر کے رواں مہینے میں جڑواں شہروں میں امن و امان اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ضلعی انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر اسلام آباد پولیس کے انتظامی اقدامات، ڈان اور دیگر قومی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی گرفتاریوں کے اعداد و شمار پر سرکاری انتظامیہ کی جانب سے تاحال تفصیلی بریفنگ آنا باقی ہے۔
ماخذ: اسلام آباد کیپیٹل پولیس، روزنامہ ڈان (Dawn)، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ۔