اسلام آباد مارچ کی تیاری: وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی لاہور پہنچ گئے، پنجاب میں 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ

کاشف عباسی , September 14,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مجوزہ لانگ مارچ کی تیاریوں اور رابطہ مہم کو آگے بڑھانے کے لیے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور پہنچ گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے لاہور کے دورے کے دوران پارٹی کے متوفی کارکن اشتیاق خان کے اہل خانہ سے تعزیت کریں گے، جس کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ میں وکلا، پارٹی عہدیداروں اور خواتین ونگ کی تنظیم سے خطاب کریں گے۔ دورے کے طے شدہ شیڈول میں مزار حضرت داتا گنج بخشؒ پر حاضری اور لبرٹی چوک سمیت لاہور کی مختلف تجارتی مارکیٹوں کا دورہ بھی شامل ہے۔ پارٹی نے 27 ستمبر کے مارچ کی قیادت کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو سونپ رکھی ہے۔

دوسری جانب، حکومتِ پنجاب نے سیکورٹی خطرات کے پیشِ نظر صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں نے عوامی اجتماعات پر ممکنہ دہشت گرد حملوں کی حساس اطلاعات فراہم کی ہیں، جس کی بنا پر 5 یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے، جلوس، جلسے اور احتجاج پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم شادی کی تقریبات، جنازے، تدفین اور مساجد میں عبادت کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ادھر پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں میاں محمود الرشید، عثمان حمزہ اعوان اور دیگر رہنماؤں کے ڈیروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور 3-MPO کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات امن و امان کے قیام اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفکیشن، پی ٹی آئی کے باضابطہ بیانات اور انتظامی اطلاعات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ 13 سے 17 ستمبر تک سیکیورٹی رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے حراستوں اور چھاپوں کے دعوؤں کی آزادانہ سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے۔

ماخذ: محکمہ داخلہ حکومتِ پنجاب نوٹیفکیشن، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایڈیٹوریل سیل۔

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کا اعلان: وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہروں میں سیکیورٹی انتہائی سخت، شاہراہوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے

کاشف عباسی , September 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف ممکنہ مارچ اور احتجاجی فرنٹ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی میں انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال اور مظاہرین کی پیش قدمی روکنے کے لیے شہر کی اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر کنٹینرز کی تنصیب شروع کر دی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر 150 کنٹینرز 26 نمبر چونگی، روات، اور مارگلہ ایونیو سمیت حساس مقامات پر پہنچا دیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس انتظامیہ نے ٹھیکیداروں کو ریڈ زون اور تمام مرکزی شاہراہوں کی ناطہ بندی کے لیے 1,000 سے زائد مزید کنٹینرز تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اور پنجاب بھر میں امن و امان کے قیام اور ممکنہ دہشت گردی کی اطلاعات کے پیشِ نظر پہلے ہی دفعہ 144 نافذ کر کے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تھری ایم پی او (3-MPO) کے تحت پیشگی کارروائیاں کرتے ہوئے جڑواں شہروں سے متحرک سیاسی کارکنوں کی حراست اور نظر بندی کے احکامات جاری کیے ہیں۔

دوسری جانب، اسلام آباد ہائیکورٹ میں مارچ کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومت کی سرکاری مشینری کو سیاسی مقاصد اور احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سیاسی ہلچل کے ساتھ جماعت اسلامی نے بھی پٹرولیم لیوی کے خلاف 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے، جس کے بعد ستمبر کے رواں مہینے میں جڑواں شہروں میں امن و امان اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ضلعی انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اسلام آباد پولیس کے انتظامی اقدامات، ڈان اور دیگر قومی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی گرفتاریوں کے اعداد و شمار پر سرکاری انتظامیہ کی جانب سے تاحال تفصیلی بریفنگ آنا باقی ہے۔

ماخذ: اسلام آباد کیپیٹل پولیس، روزنامہ ڈان (Dawn)، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم نامہ۔