

محمود احمد, August 12,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء
سعودی عرب نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر غاصب اسرائیلی خودمختاری و تسلط کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین، عالمی اصولوں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ ایک انتہائی اہم سرکاری بیان میں واضح کیا کہ کولمبیا کا یہ غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال 1981ء میں منظور کی جانے والی تاریخی قرارداد 497 کی مکمل اور صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے پر اسرائیل کے اپنے ظالمانہ قوانین، دائرہ اختیار اور انتظامیہ نافذ کرنے کا اقدام مکمل طور پر کالعدم اور قانونی اثرات کے بغیر ٹھہرایا گیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس قسم کے بلاجواز اور غیر قانونی سیاسی موقف خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول میں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس سے خطے میں قیامِ امن کی بین الاقوامی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچنے اور معاملات کو سبوتاژ کرنے کا اندیشہ ہے۔
سعودی عرب نے اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ گولان ہائٹس بلا شبہ شام کی ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اس کی تاریخی، جغرافیائی یا قانونی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے یکطرفہ فیصلے يا اقدامات اس ناانصافی کو کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتے۔ اپنے بیان کے اختتام پر مملکت نے کولمبیا کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے اس فیصلے اور موقف پر نظرثانی کرے، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے اور خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کی حمایت کرے۔