

منصور احمد, August 24,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عوام کو مؤثر اور تیز تر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بنچ اور بار کے درمیان مسلسل تعاون، یکجہتی اور تعمیری روابط ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور بار ایسوسی ایشنز ملک کے نظامِ انصاف کا اہم ترین سٹیک ہولڈر ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز ملتان، خانیوال، بہاولپور، اور سرگودھا کے علاوہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز بنوں اور بہاولپور کے نمائندہ وفود نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران بار وفود نے عدالتی انفراسٹرکچر، بار رومز، ڈیجیٹل رابطے، صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی، ای فائلنگ اور وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت جیسے درپیش اہم مسائل اور چیلنجز سے چیف جسٹس کو تفصیل سے آگاہ کیا۔
چیف جسٹس نے جاری عدالتی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اور قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی انصاف تک رسائی آسان بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے ‘ایکسیس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ’ کے ذریعے عدالتوں کی سولرائزیشن، بلاتعطل بجلی، خواتین کے لیے خصوصی سہولتی مراکز، ای لائبریریوں کے قیام اور دور دراز علاقوں کے جوڈیشل کمپلیکسز کو جدید سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ چیف جسٹس نے بار نمائندگان کو ان کے مطالبات کے جلد اور مربوط ازالے کی کامل یقین دہانی کروائی۔