حوثی عسکریت پسندوں کا راکٹوں اور ڈرونز سے اچانک زمینی حملہ؛ جواب میں یمنی فورسز کی سخت جوابی کارروائی

محمود احمد, September 04,2026

صنعاء / تعز (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کے روز سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور تعز شہر کے قریب حوثی جنگجوؤں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی سرکاری افواج کے درمیان شدید اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جن میں دونوں جانب سے کم از کم 81 فوجی اور جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں تعینات یمنی فوج کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ حوثی حملوں کے خلاف لڑتے ہوئے ان کی فورسز کے 24 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ تعز کے محاذ پر موجود ایک اور فوجی حکمران نے مزید 15 یمنی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں طبی اور ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یمنی سرکاری افواج کی جوابی کارروائی میں حوثی مسلح گروہ کے کم از کم 42 ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ خونی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثی فورسز نے تعز کے علاقے اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی کے آس پاس قائم سرکاری فوج کے مواضع پر راکٹوں اور جدید ڈرونز کی مدد سے اچانک شدید زمینی حملہ کر دیا۔ یمنی فوج نے حملے کو ناکام بنانے کے لیے جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان شدید گولا باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔