اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا یمن کے حوالے سے سلامتی کونسل سے خطاب: بحیرہ احمر میں پاکستانی عملے کی ہلاکت اور تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت

محمود احمد, August 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن کی بدلتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں پاکستانی شہریوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی بحری حدود کی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے 11 اگست کو تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس المناک کارروائی کے نتیجے میں 3 پاکستانی اور 1 انڈونیشیائی شہری جاں بحق جبکہ 7 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جہاز رانی پر اس نوعیت کے حملے عالمی تجارت، آزادیٔ جہاز رانی اور علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، لہٰذا بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری کارکنوں کے تحفظ اور بحری امور کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں اپریل 2022ء کی جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والے نسبتاً پُرسکون ماحول کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی اور اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی بحالی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں، انسانی ہمدردی کا کام کرنے والے کارکنوں اور سفارتی عملے کی من مانی حراست کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ان کی فوری و غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ یمن کا پائیدار، جامع اور پرامن حل صرف یمنی قیادت کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ملک کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر استوار ہو۔ انہوں نے عالمی برادری اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ یمن کے عوام کو تشدد کے ایک اور تباہ کن دور سے بچایا جا سکے اور انسانی بحران کے حل کے لیے مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔