

محمود احمد, August 24,2026
جدہ/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء
سعودی عرب کے مغربی ساحل پر واقع سٹریٹجک اہمیت کی حامل بندرگاہ ینبع کے قریب ایک تیل بردار جہاز (آئل ٹینکر) نا معلوم سمت سے آنے والے میزائل کا نشانہ بن گیا۔ برطانوی بحری تجارتی کارروائیوں کے ادارے ‘یو کے ایم ٹی او’ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی الرٹ کے مطابق، حملے کے نتیجے میں آئل ٹینکر کے عرشے (ڈیک) پر شدید آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی کی گئی۔
یو کے ایم ٹی او کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، یہ حملہ ینبع پورٹ کے مغرب میں سمندر میں پیش آیا۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ بحری جہاز کے عملے کے تمام ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی جانی نقصان یا سمندر میں تیل کے اخراج سے ہونے والے ماحولیاتی نقصان کی فوری اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ ادارے نے فی الحال سیکیورٹی اور تحقیقاتی وجوہات کی بناء پر متاثرہ آئل ٹینکر کی ملکیت یا اس کے پرچم کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔
ینبع کی بندرگاہ سعودی عرب کی اہم ترین آئل ایکسپورٹ ٹرمینلز اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرۂ احمر کے ذریعے خام تیل کی عالمی ترسیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیوں کے اعلان اور ایران کی جانب سے جواباً خطے سے تیل کی ترسیل روکنے اور آبنائے ہرمز و بحیرۂ احمر کے بحری راستوں کو متاثر کرنے کی دھمکیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی ہے، لیکن ماضی میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں اور بحیرۂ احمر سے گزرنے والے تجارتی و آئل ٹینکرز پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ حوثی گروپ کی جانب سے ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی معاشی ناکہ بندی کے جواب میں بحیرۂ احمر کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔
بین الاقوامی بحری سیکیورٹی اداروں نے اس واقعے کے بعد بحیرۂ احمر اور باب المندب کی شاہراہ سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو شدید محتاط رہنے اور الرٹ کی سطح بلند رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس تازہ ترین واقعے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی فراہمی اور بحری تجارت کی حفاظت سے متعلق تحفظات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔