وزیراعظم شہباز شریف کا بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن پر بڑا پیغام، ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ کرنے کے قومی عزم کا اعادہ، دنیا بھر میں ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ بچوں کی مزدوری پر تشویش کا اظہار، بینظیر انکم سپورٹ، بیت المال اور دانش اسکولز کے ذریعے مستحق بچوں کی کفالت کا اعلان

منصور احمد june 12,2026

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/نیوز اینڈ نیوز) — 12 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ عالم کے ساتھ مل کر ہر بچے کو استحصال سے پاک اور تعلیم سے آراستہ تابناک مستقبل کی فراہمی کے لیے ہرممکن اقدامات کرنے کے پکے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان بچوں سے مشقت و مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے ایک انتہائی جامع اور مؤثر حکمتِ عملی پر پوری تندہی سے عمل پیرا ہے کیونکہ بچے ہمارے ملک کے مستقبل کے حقیقی معمار ہیں اور ان کے تابندہ مستقبل کے تحفظ اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سرکاری سطح پر تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسلام آباد سے وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن (World Day Against Child Labour) کے موقع پر جاری کیے گئے خصوصی اور مخلصانہ پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آج کے دن پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر اس عہد کو دہراتا ہے کہ معصوم بچوں کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ اس سال عالمی سطح پر یہ اہم دن ”بچوں سے مشقت ناقابلِ قبول: بچوں کے لیے منصفانہ مواقع، نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار“ کے خوبصورت عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، وزیراعظم نے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ آج کے اس جدید دور میں بھی دنیا بھر کے اندر تقریباً ۱۳ کروڑ ۸۰ لاکھ معصوم بچے مزدوری اور مشقت کرنے پر مجبور ہیں جن میں سے ۵ کروڑ ۴۰ لاکھ سے زائد بچے انتہائی خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ بچوں سے مشقت و مزدوری کا مکمل سدِ باب ہماری قومی معاشی و سماجی ترقی اور معاشرتی انصاف کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ قوموں کی حقیقی ترقی ان کی مستقبل کی افرادی قوت اور بچوں کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کے بہترین استعمال پر ہی منحصر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی اس مقصد سے سچی وابستگی کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہم نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے متعلقہ کنونشنز کی باقاعدہ توثیق کر رکھی ہے جو ملازمت کی کم سے کم عمر اور بچوں سے مشقت کی بدترین اقسام کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس وقت ملک کے اندر بچوں سے متعلق قانونی اصلاحات، قوانین کے مؤثر نفاذ، سماجی تحفظ، معیاری تعلیم اور غریب خاندانوں کی معاشی آسودگی جیسے پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بچوں سے مشقت کی بنیادی جڑوں اور وجوہات کا ہمیشہ کے لیے تدارک کیا جا سکے، انہوں نے قومی کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ بچوں کے حقوق کی نگرانی اور اس حوالے سے قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے فروغ میں مصروفِ عمل ہے جبکہ وفاقی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ اور صوبائی سطح پر چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹیز، ویلفیئر بیوروز اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کے ذریعے کمزور، یتیم اور محروم بچوں کو مکمل تحفظ، مالی معاونت اور معاشرے میں باعزت بحالی کے شاندار مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں نے بچوں سے مشقت کے تدارک کے لیے نمایاں قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں اور تمام صوبوں میں جبری مشقت کے قوانین کے تحت ضلعی نگرانی کمیٹیاں اور خصوصی یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں جو لائقِ ستائش ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس حقیقت کا مخلصانہ اعتراف کیا کہ ملک میں جاری غربت ہی بچوں سے مشقت کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ہے، اسی لیے حکومت باعزت روزگار کے مواقع کی فراہمی سمیت معاونت کے سماجی تحفظ کے پروگرامز اور تعلیمی وظائف کی اسکیموں کو وسائل کی شدید کمی کے باوجود انتہائی مؤثر انداز میں چلا رہی ہے جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ”وسیلہ تعلیم“ اقدام اور پاکستان بیت المال کے قائم کردہ ”چائلڈ لیبر اسکولز“ غریب بچوں کے لیے قابلِ ذکر خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ”دانش اسکولز“ کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ورلڈ کلاس اسکولوں کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں ہزاروں مستحق اور یتیم بچے اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بالکل مفت آراستہ ہو کر اپنے روشن مستقبل کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں، انہوں نے آئی ایل او، یونیسیف، یورپی یونین اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جن کے مسلسل تعاون سے ملک میں لیبر گورننس کی جانب پیش رفت تیز ہو رہی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب کے آخر میں ملک کے تمام آجروں، محنت کشوں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی کی تنظیموں، مذہبی رہنماؤں، نجی شعبے اور بالخصوص ذرائع ابلاغ (میڈیا) سے پرزور اپیل کی کہ وہ معصوم بچوں کو ہر قسم کے استحصال سے محفوظ رکھنے کے اس عظیم اور مقدس قومی مقصد میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ یہ ہم سب کی مشترکہ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے پڑھتے لکھتے پاکستان کی تعمیر کریں جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ، محفوظ اور بااختیار ہو اور اسے قومی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے مساوی اور بہترین مواقع میسر آ سکیں۔