لبنان میں شفا خانوں پر حملے جاری، خواتین اور لڑکیاں شدید ترین انسانی بحران کا شکار: اقوامِ متحدہ کی ہنگامی رپورٹ

محمود احمد june 03,2026

بیروت / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ کے آبادی سے متعلق ذیلی ادارے نے دنیا بھر کو شدید خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ملک لبنان میں خواتین اور کم عمر لڑکیاں اس وقت ایک ہولناک اور بڑھتے ہوئے انسانی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خطے میں عارضی جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود وہاں کے مقامی طبی مراکز اور علاج گاہوں پر حملوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔

خوف و بے یقینی کا ماحول اور کمزور طبقے شدید مشکلات میں عالمی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، پورے لبنان میں اس وقت شدید خوف، معاشی و سیاسی بے یقینی اور عسکری کشیدگی کی سنگین صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث ملک کے عام شہری اور خصوصاً خواتین، نوزائیدہ بچے اور لڑکیاں شدید ترین مشکلات اور ذہنی دباؤ سے دوچار ہیں۔

مقدس طبی مراکز اور محفوظ پناہ گاہوں کی تباہی رپورٹ میں اس لرزہ خیز حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ فضائی و زمینی حملوں میں عام شہریوں کی جان بچانے والے طبی مراکز اور خواتین کے لیے قائم کردہ ان محفوظ مقامات کو شدید ترین نقصان پہنچایا گیا ہے، جو براہِ راست اقوامِ متحدہ کے مالی اور انتظامی تعاون سے چلائے جا رہے تھے۔ جنوبی لبنان کے اضلاع میں خواتین کے لیے زچگی کی طبی سہولیات پہلے ہی انتہائی محدود تھیں اور اب ان شفا خانوں پر ہونے والے تازہ حملوں سے صورتحال خطرناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔

حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں داؤ پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق، زچگی کے مخصوص کمروں اور شفا خانوں کی تباہی کے باعث حاملہ خواتین اور پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کی قیمتی زندگیاں شدید ترین خطرے میں آ گئی ہیں۔ جنگ کی ہولناکی کے باعث اس وقت ہزاروں کی تعداد میں حاملہ خواتین اپنے گھر بار چھوڑ کر کھلے آسمان تلے بے گھر ہو چکی ہیں اور وہ زچگی کے دوران ملنے والی بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے بھی مکمل طور پر محروم ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی تصدیق اور نظامِ صحت کا مفلوج ہونا دوسری جانب، عالمی ادارہ صحت نے بھی اس ابتر صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں طبی مراکز اور ڈاکٹروں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے باعث لبنان کا پورا مقامی نظامِ صحت اس وقت شدید ترین دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کے بہت سے بڑے شفا خانے اب انتہائی محدود وسائل اور بجلی و ادویات کی شدید قلت کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے دنیا کی بڑی طاقتوں اور عالمی برادری سے اس انسانی المیے پر فوری توجہ دینے اور مداخلت کرنے کی درد مندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ حملے فوری طور پر نہ روکے گئے، تو لبنان میں جاری یہ انسانی بحران آنے والے دنوں میں مزید سنگین اور بے قابو ہو سکتا ہے۔

افغان طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ، انسانی حقوق کی 83 تنظیموں کا یورپی یونین سے سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ

محمود احمد May31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق، خواتین کی آزادیوں اور تمام گروہوں کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شدید خدشات کے باعث افغان طالبان حکومت کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید اور سخت سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ کابل کی عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری، سفارتی یا سیاسی روابط قائم کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔

یورپی یونین سے مطالبہ اور دورۂ برسلز پر تشویش بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بین الاقوامی فیڈریشن برائے انسانی حقوق سمیت دنیا بھر کی 83 معتبر عالمی تنظیموں نے آئندہ ماہ جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے یورپی یونین کی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی روابط کو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں عملی بہتری لانے سے مشروط کیا جائے۔

طالبان حکومت کی نمائندگی پر عالمی تنظیموں کے سوالات ان تنظیموں نے اپنے مشترکہ اعلامیے اور مؤقف میں موقف اختیار کیا ہے کہ طالبان کسی عوامی، جمہوری یا نمائندہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے، اس لیے انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت افغانستان کے تمام عوام کا حقیقی نمائندہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغان خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کی دبائی گئی آوازوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

خواتین کے حقوق اور پابندیوں پر عالمی برادری کی تشویش انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور ان کی سماجی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں کے باعث پوری عالمی برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ تنظیموں کے مطابق، طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی قبولیت اور تسلیم کیے جانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے فوری اور عملی اقدامات کر کے دکھانا ہوں گے۔

انسانی امداد اور سفارت کاری کا چیلنج بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ نازک صورتحال میں عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج افغان عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطالبے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی اور غذائی امداد کا تعاون تو جاری رہنا چاہیے، تاہم سیاسی اور سفارتی سطح پر کسی بھی قسم کی پیش رفت کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ایک جامع سیاسی عمل کے آغاز سے مشروط رکھنا خطے کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، خواتین کے حقوق، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، حکومت میں تمام طبقات کی سیاسی شمولیت اور بین الاقوامی وعدوں پر عملدرآمد جیسے حساس معاملات مستقبل میں بھی طالبان حکومت اور عالمی برادری کے باہمی تعلقات کا رخ طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔