لاہور میں پاکستانی اسپنر کا جادو چل گیا، ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف باؤلنگ میں چالیس سال پرانا قومی ریکارڈ برابر کر کے نئی تاریخ رقم کر دی، قذافی اسٹیڈیم میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن تباہ

کاشف عباسی ,june 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جون 2026ء

قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور جادوگر اسپنر ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) میچ میں انتہائی شاندار اور جادوئی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے چالیس سال پرانا قومی ریکارڈ برابر کر دیا ہے، لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس اعصاب شکن اور اہم ترین میچ میں ابرار احمد نے اپنے مقررہ دس اوورز میں انتہائی کفایتی اور نپی تلی باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف انیس رنز دیے اور کینگروز کی دو اہم وکٹیں حاصل کیں، اس شاندار اسپیل کے دوران ان کا اکانومی ریٹ محض ایک اعشاریہ نو صفر رہا جو کہ آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی پاکستانی باؤلر کی جانب سے اب تک کے بہترین اور یادگار باؤلنگ اسپیلز میں شمار ہوتا ہے، اس بے مثال اور تاریخی کارکردگی کے ساتھ ہی ستائیس سالہ اسپنر ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی باؤلرز کے کفایتی ترین باؤلنگ اسپیل کا دیرینہ قومی ریکارڈ باقاعدہ طور پر برابر کر دیا ہے، کرکٹ ریکارڈز کی تفصیلات کے مطابق اس سے قبل سابق نامور آف اسپنر توصیف احمد نے سال انیس سو چھیاسی میں آسٹریلیا کے خلاف دس اوورز میں انیس رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ جادوگر اسپنر سعید اجمل نے سال دو ہزار نو میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں دس اوورز کے دوران انیس رنز دے کر دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور اب ابرار احمد نے بھی انیس رنز کے عوض دو شکار کر کے ان دونوں عظیم باؤلرز کا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، میچ کے دوران ابرار احمد کی اس شاندار اور جکڑی ہوئی باؤلنگ نے مضبوط آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مسلسل شدید دباؤ میں رکھا جس نے میچ میں پاکستان کی شاندار کامیابی اور سیریز جیتنے میں سب سے اہم اور کلیدی کردار ادا کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کی اس جرات مندانہ کارکردگی کو شائقینِ کرکٹ سمیت دنیا بھر کے نامور کرکٹ ماہرین کی جانب سے سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر بھرپور طریقے سے سراہا جا رہا ہے، واضح رہے کہ پاکستان نے اس تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں آسٹریلیا کو عبرتناک شکست دے کر یہ ہوم سیریز باقاعدہ طور پر اپنے نام کر کے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

قومی ہاکی ٹیم کی شاندار کامیابی، پاکستان جونیئر ہاکی ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں داخل، روایتی حریف بھارت سے ٹاکرا 5 جون کو ہو گا

محمود احمد june 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

سرزمینِ جاپان میں کھیلے جانے والے اٹھارہ سال سے کم عمر کھلاڑیوں کے ہاکی ایشیا کپ میں پاکستان نے انتہائی شاندار اور تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل مرحلے کے لیے کامیابی سے کوالیفائی کر لیا ہے۔ گروپ مرحلے کے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے بنگلادیش کو دو کے مقابلے میں پانچ گول سے عبرتناک شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

پاکستانی ٹیم کا جارحانہ کھیل اور گولز کی تفصیل جاپان کے خوبصورت شہر کاکامیگاہارا میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں پاکستانی نوجوانوں نے کھیل کے آغاز ہی سے انتہائی جارحانہ انداز اپنایا اور حریف بنگلادیشی دفاعی لائن پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ پاکستان کی فتح میں عبداللہ نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے دو گول اسکور کیے، جبکہ عدیل، آسام اور محمد یحییٰ نے ایک ایک گول کر کے ٹیم کی پوزیشن کو ناقابلِ شکست بنا دیا۔ دوسری جانب بنگلادیش کی طرف سے تیرک اسلام اور منا اسلام ہی صرف ایک ایک گول اسکور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

میچ کا بہترین کھلاڑی اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی پورے میچ کے دوران میدان میں غیر معمولی اور دلکش کھیل کا مظاہرہ کرنے پر نوجوان پاکستانی اسٹار محمد یحییٰ کو ‘میچ کا بہترین کھلاڑی’ قرار دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق، پاکستانی فارورڈ لائن نے ملنے والے تمام مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جبکہ مڈفیلڈ اور دفاعی پوزیشن پر موجود کھلاڑیوں نے بھی بہترین تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے کھیل کے دوران اپنی برتری کو کم نہیں ہونے دیا۔ اس فیصلہ کن کامیابی کے بعد پاکستان اب ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار بن کر ابھرا ہے۔

سیمی فائنل میں روایتی حریف بھارت کا سامنا اب دنیا بھر کے ہاکی شائقین کی نظریں 5 جون کو ہونے والے سیمی فائنل پر جم گئی ہیں، جہاں پاکستان کا مقابلہ اپنے روایتی حریف بھارت سے ہوگا، جس کا شائقینِ کھیل بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کی مبارکباد اور نیک تمنائیں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین احمد وانی نے قومی جونیئر ٹیم اور تمام انتظامیہ (مینجمنٹ) کو اس شاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ بڑی کامیابی تمام کھلاڑیوں، کوچز اور معاون عملے (سپورٹ اسٹاف) کی انتھک محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے قومی ٹیم سے امید ظاہر کی کہ وہ سیمی فائنل کے اس بڑے معرکے میں بھی اپنی بہترین کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کرے گی اور ملک میں ہاکی کے روشن مستقبل کی بنیاد کو مزید مضبوط بنائے گی۔

انگلش فٹبال کے ایک یادگار دور کا اختتام؛ مایہ ناز فٹبالر جیمز ملنر کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

محمود احمد june 01,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) – 1 جون 2026ء

انگلینڈ کے مایہ ناز اور انتہائی تجربہ کار فٹبالر جیمز ملنر نے چوبیس طویل سیزنز پر محیط اپنے شاندار اور تاریخی پیشہ ورانہ سفر کے بعد فٹبال کی دنیا کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہنے (ریٹائرمنٹ) کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ چالیس سالہ مڈفیلڈر نے انگلش پریمیئر لیگ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچز کھیلنے والے کھلاڑی کے طور پر اپنے شاندار کیریئر کا اختتام کیا ہے۔

آخری سیزن اور میچز کا منفرد عالمی ریکارڈ جیمز ملنر نے اپنے فٹبال کیریئر کے آخری تین سیزن مشہور کلب ‘برائٹن اینڈ ہوو البیون’ کے ساتھ گزارے اور مجموعی طور پر چھ سو اٹھاون (658) لیگ میچز کھیل کر تاریخ کا ایک انتہائی منفرد اور ناقابلِ شکست ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے رواں سال فروری کے مہینے میں سابق ریکارڈ ہولڈر گیرتھ بیری کا سب سے زیادہ میچز کھیلنے کا ریکارڈ توڑ کر یہ تاریخی اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام اور سفر کا آغاز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے ایک انتہائی جذباتی پیغام میں جیمز ملنر نے کہا کہ انگلش پریمیئر لیگ میں چوبیس یادگار سیزن گزارنے کے بعد اب کھیل کو باوقار طریقے سے الوداع کہنے کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ محض سولہ برس کی عمر میں اپنے پسندیدہ کلب ‘لیڈز یونائیٹڈ’ کی نمائندگی کرتے ہوئے جس سفر کا آغاز انہوں نے کیا تھا، وہ ان کی ذاتی توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب اور سنسنی خیز ثابت ہوا۔

مختلف نامور کلبز کی نمائندگی اور کامیابیاں اپنے طویل اور تاریخی کیریئر کے دوران انہوں نے دنیا کے مایہ ناز فٹبال کلبز جیسے کہ نیو کیسل یونائیٹڈ، ایسٹن ولا، مانچسٹر سٹی، لیورپول اور برائٹن کی کامیابی کے ساتھ نمائندگی کی۔ عسکری اور تزویراتی میدان کی طرح فٹبال میں بھی ان کا ‘مانچسٹر سٹی’ کے ساتھ دور سب سے زیادہ کامیاب رہا جہاں انہوں نے دو بڑے لیگ ٹائٹل جیتے، جبکہ ‘لیورپول’ کے ساتھ کھیلتے ہوئے بھی متعدد دیگر اہم عالمی اعزازات اپنے نام کیے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اپنے ملک انگلینڈ کی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دو عالمی کپ (ورلڈ کپ) اور دو یورپی چیمپئن شپ مقابلوں میں بھی شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔

فٹبال سے وابستہ یادیں اور عظیم کھلاڑیوں کی فہرست جیمز ملنر کا اپنے پیغام کے اختتام پر کہنا تھا کہ فٹبال کے اس کھیل نے انہیں زندگی میں ان کی سوچ اور توقعات سے کہیں زیادہ نوازا ہے۔ کھیل کے دوران بننے والی سچی دوستیوں، یادگار لمحات اور تاریخی کامیابیوں کو وہ ہمیشہ اپنے دل کے قریب رکھیں گے۔

واضح رہے کہ پریمیئر لیگ کی تاریخ میں چھ سو سے زائد میچز کھیلنے والے دنیا کے گنتی کے چند عظیم کھلاڑیوں میں جیمز ملنر کے علاوہ ریان گگز اور فرینک لیمپارڈ جیسے لیجنڈز بھی شامل ہیں۔ کھیلوں کے مبصرین کی جانب سے ان کی اس ریٹائرمنٹ کو انگلش فٹبال کے ایک سنہری اور یادگار دور کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔