ایبولا وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی اتحاد ناگزیر، سرحدوں کی بندش مسئلے کا حل نہیں: عالمی ادارۂ صحت

کاشف عباسی ,june 01,2026

کنشاسا (نیوز اینڈ نیوز) –01 جون 2026ء

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریاسس نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ خطرناک وبا پر قابو پانے کے لیے عالمی یکجہتی، مقامی آبادی کے اعتماد اور بین الاقوامی تعاون کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے لگائی جانے والی یکطرفہ سفری پابندیاں اور سرحدوں کی بندش اس وبا کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

مقامی آبادی کا اعتماد اور پریس کانفرنس جمہوریہ کانگو کے صوبہ ایتوری کے دارالحکومت بونیا میں اعلیٰ حکومتی حکام کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ کانگو کے عوام اس مشکل گھڑی میں بالکل تنہا نہیں ہیں اور پوری عالمی برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ کسی بھی وبائی مرض پر مؤثر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مقامی برادریاں اپنے زمینی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں اور ان کے حل میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ویکسین کی عدم دستیابی اور علاج کے چیلنجز ڈاکٹر ٹیڈروس نے حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس وقت ایبولا کے اس مخصوص پھیلاؤ (اسٹرین) کے لیے کوئی باقاعدہ منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے امید دلائی کہ بروقت تشخیص، معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور مؤثر نگہداشت کے ذریعے مریضوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک متعدد مریض بہتر علاج کے بعد مکمل طور پر صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارۂ صحت اور اس کے شراکت دار ادارے محفوظ اور مؤثر ویکسینز اور علاج کی تیاری کے لیے طبی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) پر تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس مہلک بیماری کے خلاف مستقل اقدامات کیے جا سکیں۔

ایتوری میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت اور لیبارٹری اقدامات صحت کے مقامی حکام کے مطابق، صوبہ ایتوری میں لیبارٹری کی سہولیات کو اب نمایاں طور پر بہتر بنا دیا گیا ہے۔ وہاں اب تک تقریباً 900 نمونوں کی تفصیلی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں سے لگ بھگ 260 افراد میں خطرناک ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صوبے میں روزانہ 200 سے 300 ٹیسٹ کرنے کی جدید صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی ہے جو کہ وبا کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

وبا پر قابو پانے کے بنیادی اصول اور سرحدوں کی بندش پر تنقید عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی، درست معلومات کی فراہمی، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے (کانٹیکٹ ٹریسنگ)، بروقت تشخیص، مریضوں کی علیحدہ نگہداشت اور محفوظ تدفین جیسے اقدامات کو وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا۔ انہوں نے ان پڑوسی ممالک سے بھی پرزور اپیل کی جنہوں نے کانگو کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں یا سخت سفری پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر فوری نظرثانی کریں۔ ان کے مطابق ایسی پابندیاں نہ صرف بین الاقوامی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ ممالک کے مابین شفافیت اور باہمی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں، جو وبائی امراض کے خلاف جنگ میں کلیدی عناصر ہیں۔

غلط معلومات اور افواہوں کے خلاف انتباہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے میڈیا اور عوام کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات، افواہیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا اس وبا کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے تمام معلومات صرف سائنسی شواہد، مستند اعداد و شمار اور طبی ماہرین کی رائے کی بنیاد پر ہی عوام تک پہنچائی جانی چاہئیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی قوت ہے، اور مشترکہ عالمی کوششوں سے ایبولا کی اس وبا پر بھی جلد قابو پایا جا سکتا ہے۔”

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مدارس اور تعلیمی اداروں پر چھاپے، مذہبی آزادیوں سے متعلق خدشات میں اضافہ

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم تعلیمی اور مذہبی اداروں کے خلاف قابض بھارتی انتظامیہ کی حالیہ متعصبانہ کارروائیوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، بھارتی تحقیقاتی ادارے نے سرینگر اور شوپیاں کے مختلف حساس علاقوں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں، جن میں کئی نامور دینی مدارس اور مسلم تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔

شوپیاں اور سرینگر میں کریک ڈاؤن اور تلاشی رپورٹس کے مطابق، بھارتی فورسز اور تحقیقاتی حکام نے شوپیاں میں واقع مشہور دینی ادارے ‘جامعہ سراج العلوم’ سمیت متعدد اہم مقامات کا گھیراؤ کر کے وہاں تفصیلی تلاشی لی، جبکہ سرینگر کے لال بازار کے علاقے میں بھی ایک معروف تعلیمی ادارے میں گھس کر زبردستی تلاشی کی کارروائی کی گئی۔ ان کارروائیوں کے دوران اداروں کے ریکارڈز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی اور مذہبی شخصیات کی رہائش گاہوں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تفتیشی حربے استعمال کیے گئے۔

مذہبی آزادی اور شہری حقوق کی پامالی کشمیر کے مقامی حلقوں، حریت رہنماؤں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ان دانستہ کارروائیوں نے خطے میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی، تعلیمی سرگرمیوں اور بنیادی شہری حقوق کی بقا کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق، دینی مدارس اور تعلیمی اداروں کے خلاف بھارتی حکومت کے ان جارحانہ اقدامات سے کشمیری عوام میں شدید غم و غصہ اور گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ اسے کشمیر کی مسلم شناخت کو مٹانے کی کوشش دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی صورتحال اور عوامی بے چینی میں اضافہ دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوج کے سخت محاصرے کے باعث سیاسی اور سماجی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس اور کشیدہ ہے۔ ایسے سفاکانہ ماحول میں معصوم طلبہ کے تعلیمی اور مذہبی اداروں کو نشانہ بنانا وادی میں مزید شدید بے چینی اور مہم جوئی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ بنیادی انسانی حقوق، اپنے عقیدے کے مطابق مذہبی آزادی اور بغیر کسی خوف کے تعلیم تک رسائی ہر مہذب معاشرے کے بنیادی اصول ہیں جن کا ہر حال میں تحفظ ضروری ہے۔

عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل حقوقِ انسانی کے ماہرین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر پرزور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ابتر ہوتی ہوئی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور وہاں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر قدغن اور مسلم تعلیمی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر ترین سفارتی کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور عوامی اعتماد کا فروغ تب تک ممکن نہیں جب تک تمام اقدامات قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق نہ ہوں۔

افغان طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ، انسانی حقوق کی 83 تنظیموں کا یورپی یونین سے سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ

محمود احمد May31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق، خواتین کی آزادیوں اور تمام گروہوں کی سیاسی شمولیت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شدید خدشات کے باعث افغان طالبان حکومت کو ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید اور سخت سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی انسانی حقوق کی درجنوں تنظیموں نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ کابل کی عبوری حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری، سفارتی یا سیاسی روابط قائم کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے۔

یورپی یونین سے مطالبہ اور دورۂ برسلز پر تشویش بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بین الاقوامی فیڈریشن برائے انسانی حقوق سمیت دنیا بھر کی 83 معتبر عالمی تنظیموں نے آئندہ ماہ جون میں طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں نے یورپی یونین کی قیادت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سیاسی یا سفارتی روابط کو افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں عملی بہتری لانے سے مشروط کیا جائے۔

طالبان حکومت کی نمائندگی پر عالمی تنظیموں کے سوالات ان تنظیموں نے اپنے مشترکہ اعلامیے اور مؤقف میں موقف اختیار کیا ہے کہ طالبان کسی عوامی، جمہوری یا نمائندہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئے، اس لیے انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت افغانستان کے تمام عوام کا حقیقی نمائندہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے افغان خواتین، نوجوانوں، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کی دبائی گئی آوازوں کو کسی بھی قیمت پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

خواتین کے حقوق اور پابندیوں پر عالمی برادری کی تشویش انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کے روزگار اور ان کی سماجی آزادیوں پر عائد سخت پابندیوں کے باعث پوری عالمی برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ تنظیموں کے مطابق، طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی قبولیت اور تسلیم کیے جانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور عالمی معاہدوں کے حوالے سے فوری اور عملی اقدامات کر کے دکھانا ہوں گے۔

انسانی امداد اور سفارت کاری کا چیلنج بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ نازک صورتحال میں عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج افغان عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطالبے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان عوام کی معاشی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی اور غذائی امداد کا تعاون تو جاری رہنا چاہیے، تاہم سیاسی اور سفارتی سطح پر کسی بھی قسم کی پیش رفت کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور ایک جامع سیاسی عمل کے آغاز سے مشروط رکھنا خطے کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، خواتین کے حقوق، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، حکومت میں تمام طبقات کی سیاسی شمولیت اور بین الاقوامی وعدوں پر عملدرآمد جیسے حساس معاملات مستقبل میں بھی طالبان حکومت اور عالمی برادری کے باہمی تعلقات کا رخ طے کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔

معرکۂ حق کے اثرات عالمی مباحث کا حصہ، سربیا کے صدر کے بیان نے بھارتی دعوؤں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

معرکۂ حق کے دوران پیش آنے والے اہم واقعات اور عسکری نتائج پر بین الاقوامی سطح پر بحث کا سلسلہ اب بھی عروج پر ہے، جبکہ اسی دوران سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ کے حالیہ تہلکہ خیز بیان نے بھارتی دفاعی دعوؤں اور نئی دہلی کے سرکاری بیانیے کی قلعی کھولتے ہوئے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

سربین صدر کا انٹرویو اور زمینی شواہد کا تذکرہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے ایک حالیہ اہم انٹرویو میں جنوبی ایشیا کی حالیہ کشیدگی اور عسکری صورتحال کا گہرا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں جدید دفاعی نظاموں کی کارکردگی اس وقت عالمی دفاعی اداروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سربین صدر کا کہنا تھا کہ اس معرکے کے حوالے سے دستیاب معلومات اور ناقابلِ تردید زمینی شواہد بعض ایسے حقائق کی نشاندہی کرتے ہیں جو بھارتی حکومت کے سرکاری دعوؤں سے بالکل مختلف اور برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی اور بھارتی دفاعی نظام کی ناکامی سربین صدر نے اپنے تجزیے میں مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ نگرانی اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے باعث اب جنگی میدان میں ہونے والی سرگرمیوں اور نقصانات کو دنیا سے مکمل طور پر پوشیدہ رکھنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ متعدد بین الاقوامی رپورٹس اور شواہد اس بات کی صاف اشارہ کرتے ہیں کہ معرکے کے دوران بھارتی فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس سسٹم) کے بعض انتہائی اہم حصے حملوں کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوئے تھے۔

عالمی رائے عامہ اور معلومات کی اہمیت دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر جانبدار بین الاقوامی شخصیات اور دیگر ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے یہ تجزیے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جدید تنازعات میں اب محض پروپیگنڈا کام نہیں آتا، بلکہ شواہد اور تکنیکی ڈیٹا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، کسی بھی عسکری واقعے کے بارے میں عالمی رائے عامہ اب صرف بھارتی میڈیا اور ان کے سرکاری بیانات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیا بھر کے ماہرین آزاد اور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔

خطے کا عسکری توازن اور پائیدار امن کا راستہ ماہرین کے مطابق، سربیا کے صدر کے ان ریمارکس نے بھارتی میڈیا اور نئی دہلی کے سرکاری مؤقف کے جھوٹے پہلوؤں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب خطے میں عسکری توازن، جدید دفاعی نظاموں کی اصل افادیت اور جنگی حکمت عملیوں پر بھی دنیا بھر میں ایک نئی تزویراتی بحث شروع ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں حقائق پر مبنی معلومات، ذمہ دارانہ بیانات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کو ترجیح دینا ہی پائیدار امن، ترقی اور استحکام کی واحد ضمانت بن سکتا ہے۔

بھارتی آرمی چیف کا ’’سندور 2.0‘‘ بیان تنقید کی زد میں، ماہرین نے اسے داخلی بحرانوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے دیا

منصور احمد ,May 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء

دفاعی اور سیاسی ماہرین نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ ’’سندور 2.0‘‘ سے متعلق بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عسکری ضرورت کے بجائے بھارت کے اندر بڑھتے ہوئے سنگین سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنے داخلی بحرانوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کے خلاف من گھڑت بیانیہ تشکیل دینا بھارتی قیادت کی ایک پرانی حکمتِ عملی رہی ہے، جسے داخلی دباؤ بڑھنے پر ہمیشہ دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

بدلتی علاقائی صورتحال اور سفارتی محاذ تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے مؤثر سفارتی کردار کے بعد بھارت کو متعدد عالمی اور علاقائی محاذوں پر سخت سفارتی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی کی قیادت بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ایک بار پھر روایتی پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہو گئی ہے تاکہ اپنی ناکامیاں چھپائی جا سکیں۔

جدید عسکری چیلنجز اور بھارتی فوج کا اعتراف ماہرین نے اس اہم نکتے کی نشاندہی کی کہ بھارتی آرمی چیف نے اپنے خطاب میں خود جدید جنگی ماحول کے چیلنجز کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے فوجی نقل و حرکت، آپریشنل سرگرمیاں اور عسکری تیاریوں کو مکمل طور پر خفیہ رکھنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارتی آرمی چیف کا یہ اعتراف دراصل خود بھارتی فوج کو درپیش عملی اور تزویراتی چیلنجز اور ان کی کمزوریوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

عسکری معاملات کا سیاسی استعمال دفاعی ماہرین کے مطابق ’’سندور 2.0‘‘ جیسے مبہم اور فرضی تصورات زیادہ تر سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے استعمال ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مبینہ فوجی کارروائی کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی نئی اصطلاحات اور جذباتی بیانیوں کے ذریعے زندہ رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے، تو یہ اس بات کا کھلا اشارہ ہے کہ اس کارروائی کے مطلوبہ سیاسی اور تزویراتی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے اور وہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔

داخلی مسائل اور تصادم کی پالیسی تجزیہ نگاروں نے کھل کر کہا کہ بھارت میں اس وقت بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، شدید معاشی دباؤ، داخلی نسلی تنازعات اور حکومتی پالیسیوں پر اٹھنے والی شدید تنقید کے ماحول میں ایسے بیانات کا سامنے آنا محض کوئی اتفاق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایسے جارحانہ بیانیوں کا واحد مقصد عوامی غیظ و غضب کا رخ داخلی مسائل سے ہٹا کر بیرونی خطرات کی جانب منتقل کرنا ہوتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ فوجی معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانا پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف ہے۔ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تصادم کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام کی پالیسی ہی سب سے ناگزیر راستہ ہے۔

حج 2026 کی شاندار کامیابی، پاکستان کو بین الاقوامی ’’لبیتم‘‘ ایوارڈ سمیت 4 عالمی اعزازات حاصل

روزینہ اسماعیل.May 31,2026

مکہ مکرمہ (نیوز اینڈ نیوز) 31 مئی 2026ء

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2026 کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کو مسلسل دوسرے سال بین الاقوامی ’’لبیتم امتیازی ایوارڈ‘‘ حاصل ہونے اور نجی حج سکیم کے تحت مزید تین عالمی اعزازات ملنے کا اعلان کیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں پاکستان حج مشن کے زیر اہتمام بعد از حج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہترین انتظامات، جدید سہولیات اور مؤثر نگرانی کے باعث رواں سال شکایات کا تناسب ایک فیصد سے بھی کم رہا، جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حج 2026 ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور پاکستانی عازمین نے اپنے تمام مناسک بخیر و عافیت ادا کیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی حکومتِ پاکستان، وزارتِ مذہبی امور، پاکستان حج مشن اور سعودی حکام کے باہمی گہرے تعاون کا نتیجہ ہے۔

وزیراعظم کی خصوصی ہدایات اور سفری سہولیات سردار محمد یوسف نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کے تحت عازمینِ حج کو رہائش، خوراک، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کی بہترین فراہمی یقینی بنائی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ اسی ہزار عازمین کے حج کوٹے کے ساتھ پاکستان دنیا کا دوسرا بڑا حج آپریشن چلانے والا ملک ہے۔ رواں سال ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ منصوبے کے دائرہ کار میں توسیع کے بعد تقریباً 80 فیصد پاکستانی عازمین نے اس جدید سہولت سے فائدہ اٹھایا، جس سے سفری مراحل انتہائی آسان اور تیز تر ہو گئے۔

بیمار اور معمر عازمین کے لیے خصوصی اقدامات وفاقی وزیر نے حج طبی مشن اور سعودی جرمن ہسپتال کی خدمات کو بھرپور طریقے سے سراہتے ہوئے بتایا کہ خصوصی انتظامات کے ذریعے 146 شدید بیمار، معمر اور کمزور عازمین کو وقوفِ عرفات، طوافِ زیارت اور دیگر اہم مناسک کی ادائیگی میں سرکاری سطح پر مدد فراہم کی گئی، جو پاکستان حج مشن کی بڑی کامیابی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کی گئی، تاہم قومی ذرائع ابلاغ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق عوام تک پہنچائے۔ انہوں نے زور دیا کہ حج ایک مقدس فریضہ اور قومی ذمہ داری ہے، اسے سیاسی مقاصد یا پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

حج 2027 کی تیاریاں اور نئی پالیسی کا آغاز سردار محمد یوسف نے مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سعودی وزارتِ حج کی نئی پالیسی کے مطابق حج 2027 کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ابھی سے کر دیا گیا ہے۔ آئندہ حج پالیسی رواں سال جون میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی جبکہ ’’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘‘ کی پالیسی کو برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر حج 2027 کی بکنگ مکمل کر لی جائے گی، اس لیے حج کے خواہشمند افراد فوری طور پر اپنے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات تیار کر لیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج 2027 میں انتظامات کو ڈیجیٹل اور جدید بنانے کے لیے کئی نئے اقدامات زیر غور ہیں، جن میں عازمین کی سخت طبی جانچ، گروپ ناظمین کی پیشگی تربیت، تربیتی پروگراموں کو ڈویژنل سطح تک وسعت دینا اور مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ تک تیز رفتار ٹرین سروس کے استعمال پر پیش رفت شامل ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ اور سعودی سفیر نواف سعید المالکی کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی ترقی، استحکام، خوشحالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔