

کاشف عباسی ,june 01,2026
کنشاسا (نیوز اینڈ نیوز) –01 جون 2026ء
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریاسس نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی حالیہ خطرناک وبا پر قابو پانے کے لیے عالمی یکجہتی، مقامی آبادی کے اعتماد اور بین الاقوامی تعاون کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے لگائی جانے والی یکطرفہ سفری پابندیاں اور سرحدوں کی بندش اس وبا کے خلاف جاری عالمی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
مقامی آبادی کا اعتماد اور پریس کانفرنس جمہوریہ کانگو کے صوبہ ایتوری کے دارالحکومت بونیا میں اعلیٰ حکومتی حکام کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ کانگو کے عوام اس مشکل گھڑی میں بالکل تنہا نہیں ہیں اور پوری عالمی برادری ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ کسی بھی وبائی مرض پر مؤثر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مقامی برادریاں اپنے زمینی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتی ہیں اور ان کے حل میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ویکسین کی عدم دستیابی اور علاج کے چیلنجز ڈاکٹر ٹیڈروس نے حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس وقت ایبولا کے اس مخصوص پھیلاؤ (اسٹرین) کے لیے کوئی باقاعدہ منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے امید دلائی کہ بروقت تشخیص، معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور مؤثر نگہداشت کے ذریعے مریضوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک متعدد مریض بہتر علاج کے بعد مکمل طور پر صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارۂ صحت اور اس کے شراکت دار ادارے محفوظ اور مؤثر ویکسینز اور علاج کی تیاری کے لیے طبی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) پر تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس مہلک بیماری کے خلاف مستقل اقدامات کیے جا سکیں۔
ایتوری میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت اور لیبارٹری اقدامات صحت کے مقامی حکام کے مطابق، صوبہ ایتوری میں لیبارٹری کی سہولیات کو اب نمایاں طور پر بہتر بنا دیا گیا ہے۔ وہاں اب تک تقریباً 900 نمونوں کی تفصیلی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں سے لگ بھگ 260 افراد میں خطرناک ایبولا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب صوبے میں روزانہ 200 سے 300 ٹیسٹ کرنے کی جدید صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی ہے جو کہ وبا کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
وبا پر قابو پانے کے بنیادی اصول اور سرحدوں کی بندش پر تنقید عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ نے ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی، درست معلومات کی فراہمی، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے (کانٹیکٹ ٹریسنگ)، بروقت تشخیص، مریضوں کی علیحدہ نگہداشت اور محفوظ تدفین جیسے اقدامات کو وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا۔ انہوں نے ان پڑوسی ممالک سے بھی پرزور اپیل کی جنہوں نے کانگو کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں یا سخت سفری پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں پر فوری نظرثانی کریں۔ ان کے مطابق ایسی پابندیاں نہ صرف بین الاقوامی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ ممالک کے مابین شفافیت اور باہمی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں، جو وبائی امراض کے خلاف جنگ میں کلیدی عناصر ہیں۔
غلط معلومات اور افواہوں کے خلاف انتباہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے میڈیا اور عوام کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات، افواہیں اور گمراہ کن پروپیگنڈا اس وبا کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے تمام معلومات صرف سائنسی شواہد، مستند اعداد و شمار اور طبی ماہرین کی رائے کی بنیاد پر ہی عوام تک پہنچائی جانی چاہئیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یکجہتی ہی ہماری سب سے بڑی قوت ہے، اور مشترکہ عالمی کوششوں سے ایبولا کی اس وبا پر بھی جلد قابو پایا جا سکتا ہے۔”









