

محمود احمد, October15,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اکتوبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی فوجی ماہرِ نفسیات نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ فیصلہ اس معاملے پر سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کے بعد کیا، تاہم ان کے مطابق سزائے موت مقررہ شیڈول کے تحت دی جائے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ اگر سزائے موت کو براہِ راست نشر کیا جاتا تو یہ دنیا کے لیے دہشت گردی سے نمٹنے کے امریکی طریقۂ کار کے بارے میں ایک تنبیہ بن سکتی تھی، لیکن بہت سے نیک نیت افراد کسی شخص کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔ صدر نے واضح کیا کہ نضال حسن کی سزائے موت کی کارروائی آن لائن نشر نہیں کی جائے گی۔
اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ نضال حسن کو 3 دسمبر 2026ء کو ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی اور اس عمل کو عوام براہِ راست دیکھ سکیں گے۔ اس منصوبے پر نائب صدر جے ڈی وینس سمیت متعدد شخصیات نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ وینس نے کہا تھا کہ وہ خود اس نشریات کو نہیں دیکھیں گے۔
سابق فوجی افسران اور سیاسی رہنماؤں کی مخالفت
اس فیصلے سے قبل 72 ریٹائرڈ امریکی جنرلز، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے ایک گروپ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا منصوبہ منسوخ کیا جائے۔ ان افسران نے اپنے خط میں اس اقدام کو اختیارات کے نامناسب استعمال سے تعبیر کرتے ہوئے صدر، کانگریس اور امریکی عوام سے اسے روکنے کی اپیل کی تھی۔
براہِ راست نشریات کے منصوبے پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں اور مذہبی شخصیات نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ سزائے موت کو عوامی تماشے میں تبدیل کرنا انصاف کے وقار اور انسانی احترام سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
فورٹ ہڈ حملے میں 13 فوجی ہلاک ہوئے تھے
نضال حسن امریکی فوج میں میجر اور ماہرِ نفسیات تھے۔ انہیں 2009ء میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں 13 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور 32 افراد کو زخمی کرنے کے جرم میں 2013ء میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، نضال حسن کی سزائے موت 3 دسمبر 2026ء کو مقرر ہے۔ ٹرمپ کے تازہ اعلان کے بعد کارروائی کی براہِ راست نشریات نہیں ہوں گی، تاہم متاثرہ خاندانوں کو طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق کارروائی دیکھنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ سزائے موت پر کسی ممکنہ قانونی کارروائی یا التوا کے بارے میں حتمی صورتِ حال الگ معاملہ ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: صدر ٹرمپ نے سزائے موت کی براہِ راست نشریات منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، سزائے موت ختم کرنے کا نہیں۔ فراہم کردہ تازہ اطلاعات کے مطابق پھانسی کی تاریخ 3 دسمبر 2026ء مقرر ہے، تاہم قانونی کارروائیوں کے باعث شیڈول میں تبدیلی کا امکان خارج نہیں کیا جا سکتا۔
ماخذ: سی بی ایس نیوز، ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)، امریکی فوجی حکام کے بیانات