Latest news

عالمی بینک: خطے کے انتہائی غریب افراد میں تقریباً نصف پاکستان میں رہتے ہیں

Spread the love

منصور احمد,October07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء

عالمی بینک کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں خلیج فارس میں شروع ہونے والے تنازع کے اثرات پاکستان، افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ پر مشتمل خطے میں لوگوں کے روزگار اور ذرائع معاش پر پڑے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازع کے باعث گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ خطے کے عوام کو انسانی اور معاشی سطح پر بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

عالمی بینک کی خطے سے متعلق اکنامک اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد میں تقریباً 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتہائی غربت سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد افغانستان، شام اور یمن میں بھی موجود ہے۔

رپورٹ میں خطے میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ لبنان، پاکستان، شام اور متحدہ عرب امارات میں پٹرول کی قیمتیں 40 فیصد یا اس سے زیادہ بڑھیں، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں لبنان میں 80 فیصد سے زائد، متحدہ عرب امارات میں تقریباً 70 فیصد اور پاکستان، مغربی کنارے اور غزہ میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی بینک کے مطابق بعض حکومتوں کی جانب سے قیمتوں پر کنٹرول اور سبسڈیز کے ذریعے صارفین کو فوری جھٹکے سے بچانے کی کوشش کی گئی، تاہم اس پالیسی کے نتیجے میں حکومتی مالیات پر دباؤ بڑھا۔ مصر، اردن اور تیونس میں حکومتی قرضے جی ڈی پی کے 80 فیصد سے تجاوز کرچکے ہیں، جبکہ لبنان میں یہ شرح 130 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان سمیت الجزائر، جبوتی، عراق اور مراکش کو بھی قرضوں اور مالی ضروریات کے حوالے سے نمایاں دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایندھن اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شام اور پاکستان میں احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے۔

پاکستان میں غربت میں اضافہ

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018-19 سے 2024-25 کے دوران روزانہ 3 ڈالر کی عالمی غربت کی لکیر کے حساب سے غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا، جبکہ 4.20 ڈالر یومیہ کی غربت کی لکیر کے مطابق یہ اضافہ 3.2 فیصد پوائنٹس رہا۔

رپورٹ میں غربت میں اضافے کی وجوہات میں کووڈ-19 وبا، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند افراطِ زر، پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ان منفی معاشی رجحانات کے اثرات 2026 تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل MENAAP خطہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح اب بھی وبا سے پہلے کی سطح سے بلند ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق خطے میں روزانہ 3 ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد میں تقریباً نصف پاکستان میں آباد ہیں، جبکہ افغانستان، شام اور یمن میں موجود افراد مجموعی طور پر اس گروہ کا مزید تقریباً 47 فیصد بنتے ہیں۔ یہ تینوں ممالک طویل جنگوں اور تنازعات سے متاثر رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
عالمی بینک کے اعداد و شمار غربت کی مختلف عالمی آمدنی کی لکیروں کے مطابق صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں، اس لیے ان شرحوں کو پاکستان کی قومی غربت کی لکیر کے اعداد و شمار سے براہِ راست یکساں نہیں سمجھنا چاہیے۔ رپورٹ میں پاکستان میں غربت کے بڑھنے کے متعدد معاشی اور قدرتی عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں مہنگائی، سیلاب، وبا اور طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔

ماخذ: عالمی بینک