
محمود احمد, October08,2026
کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 8 اکتوبر 2026ء
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے صحافی حماد علی کو نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے ایک خبر کے معاملے پر نوٹس جاری کیے جانے کے بعد صحافتی حلقوں میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) اور وکلا کے نمائندوں نے کارروائی کو صحافی پر دباؤ ڈالنے اور ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل 92 سے وابستہ حماد علی کے مطابق انہیں سابق لیویز فورس کے اسلحے سے متعلق شائع ہونے والی خبر پر نوٹس دیا گیا۔ خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد چھوٹے اسلحے کی لاکھوں گولیاں ریکارڈ کے مطابق منتقل نہیں ہوئیں۔
صحافی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا، جس کے بعد وہ این سی سی آئی اے حکام کے سامنے پیش ہوئے۔ ان کے مطابق حکام نے بتایا کہ سابق لیویز فورس کے ایک اہلکار کی شکایت پر ان سے خبر کے بارے میں وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔
حماد علی کے مطابق ان کی خبر میں پولیس کے تحفظات کا حوالہ دیا گیا تھا، جن کے مطابق پولیس کو ایس ایم جی سمیت چھوٹے ہتھیاروں کی تقریباً 28 لاکھ گولیاں منتقل ہونا تھیں، تاہم ریکارڈ میں تقریباً 6 لاکھ گولیاں موصول ہونے کا ذکر تھا، جس کے نتیجے میں 21 لاکھ سے زائد گولیوں کا فرق سامنے آیا۔
ان کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے حکام نے انہیں بتایا کہ شکایت کنندہ نے خبر کو اپنی دل آزاری اور سابق لیویز فورس کی ساکھ متاثر ہونے کا باعث قرار دیا ہے۔ حماد علی کے مطابق انہوں نے حکام سے سوال کیا کہ جب خبر میں کسی فرد کا نام شامل نہیں کیا گیا تو کسی مخصوص شخص کی دل آزاری کا معاملہ کیسے بنتا ہے۔
صحافی نے بتایا کہ انہوں نے اپنی خبر کے حق میں متعلقہ دستاویزات بھی پیش کیں، جن میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کی ایک ایف آئی آر شامل ہے۔ ان کے مطابق ایف آئی آر میں سابق لیویز اہلکار روشن خان کے گھر پر چھاپے، اسلحے اور بڑی تعداد میں گولیوں کی برآمدگی اور گرفتاری کا ذکر موجود ہے۔
حماد علی کا کہنا ہے کہ دستاویزات پیش کرنے کے باوجود انہیں دوبارہ طلب کیا گیا ہے اور مزید شواہد فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد رند اور جنرل سیکریٹری شاہ حسین ترین نے مشترکہ بیان میں صحافی کو نوٹس جاری کرنے اور بار بار طلب کیے جانے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو نوٹسز، مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کا رجحان آزادیِ صحافت کے لیے تشویش ناک ہے۔
بلوچستان بار کونسل کے رکن اور سینیئر وکیل راحب خان بلیدی نے بھی کارروائی کو ہراسانی قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران دباؤ سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
حماد علی کے خلاف کارروائی اور شکایت سے متعلق تفصیلات صحافی کے بیان اور صحافتی تنظیموں کے مؤقف کی بنیاد پر بیان کی گئی ہیں۔ خبر میں موجود اسلحے اور گولیوں کے ریکارڈ سے متعلق دعووں کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ تفتیشی اور عدالتی عمل میں ہونا باقی ہے۔
ماخذ: حماد علی کا بیان، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس، بلوچستان بار کونسل