بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سنسنی خیز واقعہ: کوئٹہ کراچی شاہراہ کے قریب سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

کاشف عباسی , September 06,2026

مستونگ / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے حساس اور مرکزی ضلع مستونگ سے اتوار کے روز 6 نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید سنسنی، خوف اور تحفظات کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حکومتی و سرکاری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کے قریب دو الگ الگ مقامات سے ملی ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس سلسلے میں مستونگ پولیس نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔

مستونگ پولیس کے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ڈی سی ہاؤس کے قریب سے 1 لاش جبکہ دتو موڑ کے مقام سے 5 افراد کی لاشیں ملیں۔ ایس ایچ او سٹی عبدالرؤف بلوچ کی نگرانی میں پولیس کی نگران ٹیم نے لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

تاہم، اس دردناک واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مستونگ کے مقامی رہائشی مالک بلوچ نے بتایا کہ لاشیں علی الصبح سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں اور کافی دیر تک کھلے آسمان تلے سڑک کنارے پڑی رہیں۔

مقامی ذرائع نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ پولیس اور ریسکیو اہلکار لاشوں کو اٹھا کر کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے لے گئے تھے، لیکن پراسرار طور پر کچھ ہی دیر بعد انہیں دوبارہ لا کر مستونگ کی شاہراہ کے کنارے رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ شہریوں کے مطابق بعد ازاں ان لاشوں کو کسی سرکاری یا فلاحی ایمبولینس کے بجائے ایک زمیاد (Zamyad) گاڑی میں لاڈ کر کے نامعلوم جگہ منتقل کیا گیا۔

واقعے کے حقائق جاننے اور لاشوں کی منتقلی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات پر مستونگ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے نہ تو فون کالز کا جواب دیا اور نہ ہی پیغامات کا کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

بلوچستان کے ضلع قلات میں پاک فوج کا بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: 12 عسکریت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 04,2026

راولپنڈی / قلات (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک کامیاب کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعے کے روز جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 2 ستمبر کو قلات کے دشوار گزار علاقے میں انجام دیا گیا۔ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کی مسلسل نگرانی اور نشاندہی کے بعد فورسز کی جانب سے انتہائی مہارت سے فوری ‘سرجیکل ایکشن’ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اس حتمی اور موثر سرجیکل ایکشن کے نتیجے میں ٹھکانے پر موجود تمام 12 عسکریت پسند موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ ان کی کمین گاہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولا بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) بنانے کے لیے رکھے گئے بارودی مواد کے بڑے ذخیرے کو بھی قبضے میں لے کر موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق علاقے میں عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن اور معائنہ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

بلوچستان کی تقدیر صرف اس کے عوام کے ہاتھوں میں ہے: آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صوبے کی سیاسی و سماجی قیادت سے اہم ملاقات

کاشف عباسی , August 21,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دشمن کے مذموم عزائم کو قوم کے اجتماعی عزم اور ریاست کی غیر متزلزل، پُرعزم اور فیصلہ کن کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر ناکام بنایا جائے گا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات اور قیادت سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا، اور بلوچستان باصلاحیت، ثابت قدم، محب وطن اور باوقار لوگوں کی سرزمین ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ واضح قومی بیانیہ، دیرپا امن اور استحکام ہی صوبے کی حقیقی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور بلوچستان کے وافر انسانی و قدرتی وسائل کو عوام کی حقیقی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان معاشرے کا سب سے متحرک اور امید افزا طبقہ ہیں جنہیں بااختیار بنانا پائیدار ترقی کا ضامن ہے۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والی پراکسیز ہیں جنہیں دشمن عناصر بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور ریاست و عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے دشمن کے منفی پراپیگنڈے کا جامع اور بلا جھجھک مقابلہ کرنے، جھوٹے بیانیوں کو بے نقاب کرنے اور بلوچستان کے عوام کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تقدیر کا فیصلہ صرف اس کے اپنے عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ ملاقات میں موجود ممبران اور رہنماؤں نے بھی امن و ترقی کی راہ میں افواجِ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کا باہمی رابطہ ضروری ہے: صدر آصف علی زرداری

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن، تیز رفتار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر روابط اور یکجہتی کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بدھ کے روز ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا۔

ملاقات کے دوران صدرِ مملکت کو بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور صوبے بھر میں جاری مختلف عوامی و معاشی ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے بلوچستان خصوصی توجہ اور وسائل کا پورا حقدار ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام تر ناپاک کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا، اور وہ دن دور نہیں جب صوبے سے دہشت گردی کا مکمل جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا۔

اس اہم ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور اور بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری بھی موجود تھے۔

ایس آئی ایف سی کی تاریخی پیش رفت: بلوچستان میں 200 ملین ڈالر کا خضدار معدنی منصوبہ فعال، سالانہ 230 ملین ڈالر تک آمدن کی توقع

منصور احمد, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی خصوصی معاونت اور سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک نیا اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت بلوچستان کا اہم خضدار بارائٹ، لیڈ اور زنک منصوبہ باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا معدنی شعبہ اپنے وسیع اور غیر معمولی قدرتی وسائل کے باعث ملک کی معاشی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بارائٹ، لیڈ اور زنک کا شمار ملک کے ان اہم ترین اور بڑے معدنی منصوبوں میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے انتظامی پیچیدگیوں، قانونی رکاوٹوں اور نامساعد حالات کے باعث زیرِ التوا چلے آ رہے تھے۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اس اہم منصوبے کو درپیش تمام دیرینہ مسائل بالخصوص کان کنی کی لیز سے متعلق پیچیدگیوں کو احسن طریقے سے حل کراتے ہوئے دو سو ملین ڈالر، یعنی تقریباً پچپن ارب روپے کی خطیر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی ہے۔ یہ اہم اور فائدہ مند منصوبہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور بولان مائننگ انٹرپرائزز کے باہمی اشتراک اور باہم تعاون سے بلوچستان کے اہم ضلع خضدار میں تیار اور فعال کیا جا رہا ہے۔ کان کنی کی لیز سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی مسائل کے خاتمے کے بعد آپریشنل معاہدے کی حتمی تکمیل اس منصوبے کی عملی شروعات اور کان کنی کے آغاز میں سب سے اہم ترین پیش رفت ثابت ہوئی ہے۔

تخمینے اور فنی رپورٹس کے مطابق خضدار کا یہ اہم منصوبہ تقریباً انہتر ملین ٹن کے وسیع اور انتہائی قیمتی معدنی ذخائر پر مشتمل ہے، جبکہ اس منصوبے سے معدنیات نکالنے کی متوقع مدت چوتھیس سال مقرر کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے باقاعدہ فعال ہونے اور تجارتی پیداوار کے آغاز سے پاکستان کو سالانہ ایک سو پچاس ملین ڈالر سے لے کر دو سو تیس ملین ڈالر تک کی کثیر آمدن اور زرمبادلہ حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس سے نا صرف وفاقی اور صوبائی خزانے کو درکار معاشی تقویت ملے گی بلکہ بلوچستان بالخصوص خضدار اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں سڑکوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مقامی معاشی سرگرمیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے قدرتی اور معدنی وسائل میں مقامی اور غير ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے پاکستان کی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی واضع اور واضح عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرینِ معیشت اور معدنیات کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے زیرِ اہتمام معدنی شعبے میں کی جانے والی یہ مسلسل اصلاحات، شفافیت اور عملی اقدامات پاکستان کی معدنی معیشت کو دنیا کے سامنے ایک نئی اور باوقار شناخت دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف خام مال کی برآمد ممکن ہوگی بلکہ ملک کے اندر صنعتی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جو آنے والے دنوں میں ملکی معیشت کا رخ موڑنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا بنیادی مقصد ملک میں موجود معاشی تعطل کو ختم کرنا اور مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، معدنیات، معلومات عامہ اور توانائی میں سرمایہ کاری کے عمل کو تیز بنانا ہے۔ خضدار منصوبے کی بحالی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب ریاست کے تمام ادارے ایک نقطے پر متفق ہو کر رکاوٹیں دور کرتے ہیں تو سالہا سال سے اٹکے ہوئے معاشی منصوبے بھی ریکارڈ مدت میں فعال ہو جاتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی سے بلوچستان میں موجود دیگر معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی راستے کھلیں گے اور عالمی کمپنیوں کا پاکستان کی طرف میلان مزید بڑھے گا۔

حکومت کا یہ اقدام بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کے معاشی حقوق کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ خضدار کا یہ منصوبہ ان تمام افواہوں اور منفی تاثرات کا عمل جواب ہے جو بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پھیلائے جاتے ہیں۔ جب مقامی آبادی کو روزگار کے باعزت مواقع ملیں گے اور ان کے خطے میں اربوں روپے کے منصوبے مکمل ہوں گے تو اس سے نہ صرف علاقے کی حالت بدلے گی بلکہ ملک میں امن و امان اور پائیدار معاشی استحکام کو بھی تقویب ملے گی۔ آنے والے وقت میں اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدن کو بلوچستان کی مزید فلاح و بہبود کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

بلوچستان کے ضلع سوراب میں دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی: فتنۃ الہندوستان سے وابستہ 18 دہشت گرد ہلاک، 3 شہری بھی جاں بحق

منصور احمد, August 12,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

بلوچستان کے ضلع سوراب میں گاڑی میں دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کی تیاری کے دوران قبل از وقت دھماکے اور اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ‘فتنۃ الہندوستان’ سے وابستہ مجموعی طور پر 18 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ قبل از وقت ہونے والے اس دھماکے اور قریبی بارودی مواد کے پھٹنے سے علاقے کے 3 عام شہری بھی جاں بحق ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، سوراب میں دہشت گرد گاڑی میں بم نصب کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہو گیا، جس سے موقع پر ہی 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ کلیئرنس اور سرچ آپریشن کا آغاز کیا۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگا کر سیکیورٹی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مزید 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے دو بہادر جوان بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود باقی ماندہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے اور کلیئرنس کے لیے سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

ترجمان آئی ایس پی آر نے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری اور ‘عزمِ استحکام’ کے وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی بھرپور کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گے۔