

کاشف عباسی ,October10,2026
چارسدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے سلسلے میں 11 اکتوبر کو ملک بھر سے کارکن صوابی پہنچیں گے، جبکہ 13 اکتوبر کو وہاں تحریک کے آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
لانگ مارچ کے ساتویں روز چارسدہ سے روانگی سے قبل شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے چارسدہ کے عوام کے جذبے اور عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسی جذبے کے ساتھ اپنے سیاسی مؤقف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
گورنر راج سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب معاملہ محض اقتدار یا کرسی کا نہیں رہا۔ ان کے بقول وہ اپنے قائد اور پختونوں کے حقوق کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور انہیں کسی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتا۔
سہیل آفریدی نے تحریک کو آئین اور قانون کے دائرے میں جاری سیاسی جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے کارکن پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے، تاہم وہ اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ ثابت قدم رہیں اور اپنی منزل پر توجہ مرکوز رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتِ حال پر بھی بات کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ غلط پالیسیوں اور بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے باعث صوبے کے حالات متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے امن کے قیام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کی مشکلات اور تحفظات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ تحریک کے مقاصد کے حصول کے لیے اپنا جذبہ برقرار رکھیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی جدوجہد کا محور اپنے قائد اور صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ ہے اور وہ اپنے سیاسی مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
صوابی میں 11 اکتوبر کو کارکنوں کی آمد اور 13 اکتوبر کو آئندہ حکمتِ عملی کے اعلان سے متعلق وزیراعلیٰ کے بیان کو لانگ مارچ کے اگلے مرحلے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، فراہم کردہ بیان میں آئندہ احتجاجی سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات یا ان کے عملی طریقۂ کار کی وضاحت نہیں کی گئی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اس خبر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیانات اور الزامات کو ان سے منسوب کیا گیا ہے۔ دہشت گردی، امن و امان اور گورنر راج سے متعلق سیاسی مؤقف کو تمام متعلقہ فریقوں کے مؤقف اور دستیاب شواہد کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔
ماخذ: فراہم کردہ بیان