Latest news

وفاقی وزرا کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کا دفاع، دہشت گردی میں اضافے کا دعویٰ

Spread the love

منصور احمد,October11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے باعث غیر معمولی آئینی اقدامات ضروری ہو گئے تھے۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق حکومت نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے انتظامی امور گورنر کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اتوار کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پریس بریفنگ میں اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ صوبائی معاملات چلانے کے لیے گورنر کو اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ اس عمل میں معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس صورتِ حال نے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

محسن نقوی کا مذاکرات کی تفصیلات سے متعلق بیان

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوران چار مرتبہ مسودے تیار کیے گئے۔ ان کے مطابق آخری مسودے پر بھی تحریک انصاف سے تجاویز طلب کی گئی تھیں، تاہم پیراگراف چار پر پارٹی کو اعتراضات تھے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ وہ متبادل تجاویز دے تاکہ اختلافی نکات پر بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کی رات تقریباً پونے بارہ بجے تک ان کا پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ رہا اور انہوں نے آخری وقت تک مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔

وزیرِ داخلہ کے مطابق انہوں نے قیادت کو یہ موقع بھی دیا کہ وہ اپنی مطلوبہ تبدیلیاں بتا دے تاکہ اگلی صبح ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے اقدامات سے بچنے کا راستہ نکل سکے۔ تاہم، ان کے بیان کے مطابق مذاکرات میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا۔

حکومت کا مؤقف: دھرنے کے بجائے دہشت گردی اصل مسئلہ

محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو پی ٹی آئی کے دھرنے سے بنیادی طور پر مسئلہ نہیں تھا بلکہ اصل تشویش دہشت گردی اور صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال تھی۔ تاہم، ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے دھرنا مؤخر کرنا ضروری ہے۔

وزیرِ داخلہ نے خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں حالات کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ علاقوں میں شام کے وقت لوگوں کے لیے گھروں سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر بھی بات ہوئی تھی، کیونکہ وہاں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا تھا۔

محسن نقوی نے مزید دعویٰ کیا کہ صوبے میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کے لیے واقعات کی تعریف، متعلقہ مدت اور سرکاری یا آزاد سکیورٹی ڈیٹا کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

آئینی اختیارات اور سیاسی اختلافات

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ سکیورٹی کی سنگین صورتِ حال کے پیش نظر کیا گیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے اسے صوبائی خودمختاری اور جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ قرار دے چکی ہے۔

اس معاملے میں آئینی اعلان کی شرائط، گورنر کو تفویض کردہ اختیارات، مشاورتی کونسل کے کردار اور پارلیمانی کارروائی کی تفصیلات اہم ہوں گی۔ مذاکرات کی ناکامی سے متعلق وفاقی حکومت کے بیان کے ساتھ پی ٹی آئی کا مؤقف بھی سامنے آنا ضروری ہے تاکہ اختلافات اور فیصلے کے پس منظر کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ مذاکرات، 12 اضلاع میں ایمرجنسی سے متعلق گفتگو اور دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافے کے اعداد و شمار وفاقی وزیرِ داخلہ سے منسوب ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ آئینی دفعات اور باضابطہ سرکاری دستاویزات کے مطابق ہوگا۔

ماخذ: وفاقی وزرا سے منسوب پریس بریفنگ، فراہم کردہ متن