Latest news

اعظم نذیر تارڑ: خیبر پختونخوا میں غیر معمولی صورتحال کے باعث ایمرجنسی اور گورنر راج کا بیک وقت نفاذ

Spread the love

منصور احمد,October11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان اور انتظامی صورتحال اس قدر سنگین تھی کہ وفاقی حکومت کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت حاصل اختیارات بیک وقت استعمال کرنا پڑے۔

وفاقی وزیرِ قانون کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشورے پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ عام اصطلاح میں آرٹیکل 232 کے تحت کیے جانے والے اقدام کو ایمرجنسی، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت کارروائی کو گورنر راج کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات معمول کی نوعیت کے نہیں تھے اور اسی لیے آئین کی دونوں دفعات سے متعلق اختیارات استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ان کے بقول پاکستان ماضی میں بھی بڑے بحرانوں سے گزرا ہے، تاہم خیبر پختونخوا کو درپیش موجودہ صورتحال غیر معمولی ہے۔

صوبائی حکومت کے اختیارات سے متعلق وضاحت

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ صدارتی فرمان کے ذریعے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے گورنر خیبر پختونخوا کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ آئین کے تحت ایسی صورتحال میں تفویض کیے جانے والے صوبائی انتظامی اختیارات استعمال کریں۔

وفاقی وزیرِ قانون کے بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد صوبے کے انتظامی معاملات کو آئینی طریقۂ کار کے تحت چلانا ہے۔ تاہم، گورنر کو منتقل کیے جانے والے اختیارات کی عملی حدود اور ان کے استعمال کا تعین صدارتی فرمان اور متعلقہ آئینی دفعات کے مطابق ہوگا۔

آئینی دفعات کا اطلاق اہم معاملہ

آرٹیکل 232 ہنگامی حالات میں ایمرجنسی کے اعلان سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 اس صورتِ حال کے لیے آئینی طریقۂ کار فراہم کرتا ہے جب کسی صوبے میں حکومت آئین کے مطابق نہ چلائی جا سکے۔ دونوں دفعات کے تحت کارروائی کی شرائط اور قانونی اثرات الگ ہیں، اس لیے ان کے بیک وقت استعمال کی تفصیلات کو صدارتی فرمان کے اصل متن کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے پر وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ اس فیصلے کے آئینی، انتظامی اور سیاسی اثرات کا انحصار آئندہ سرکاری اقدامات، پارلیمانی کارروائی اور متعلقہ قانونی تقاضوں پر ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اعظم نذیر تارڑ سے منسوب بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آرٹیکلز 232 اور 234 کے بیک وقت استعمال اور صوبائی حکومت کے اختیارات کی منتقلی سے متعلق قانونی تفصیلات کی حتمی وضاحت کے لیے صدارتی فرمان اور متعلقہ سرکاری دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے۔

ماخذ: وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ سے منسوب بیان، فراہم کردہ متن