
کاشف عباسی ,October11,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت متعدد شہروں میں موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث شہریوں کو رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم، متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن علاقوں میں مواصلاتی خدمات متاثر ہوئی ہیں۔
موجودہ صورتِ حال میں معلومات کے تبادلے اور متعلقہ حکام سے رابطوں میں مشکلات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے متعدد صوبائی رہنماؤں اور دیگر حکام سے رابطے کی کوششیں کی گئیں، تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
اس صورتِ حال کے باعث خیبر پختونخوا کی سابق صوبائی حکومت سے وابستہ ذمہ داران کا مؤقف بھی فوری طور پر سامنے نہیں آ سکا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بعض صوبائی رہنماؤں کے بیانات جاری کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے پارٹی کا مؤقف سامنے لانے کی کوشش کی گئی۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد شہری ردعمل سے متعلق اطلاعات
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد شہری ردعمل کے حوالے سے بھی مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض شہریوں نے فیصلے کے بعد مٹھائی تقسیم کی۔
تاہم، مواصلاتی رابطوں میں مبینہ مشکلات اور آزادانہ تصدیق کے محدود مواقع کے باعث ان رپورٹس کی مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ مٹھائی تقسیم کرنے کا واقعہ کن مقامات پر پیش آیا، اس میں کتنے افراد شریک تھے اور آیا یہ کسی منظم عوامی ردعمل کا حصہ تھا یا محدود نوعیت کی سرگرمی۔
بنوں میں معمولاتِ زندگی جاری رہنے کی اطلاع
بنوں سے موصول ہونے والی ایک شہری کی اطلاع کے مطابق علاقے میں بازار معمول کے مطابق کھلے ہوئے تھے۔ شہری نے بتایا کہ ان کے علاقے میں نہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے حق میں کوئی مظاہرہ ہو رہا تھا اور نہ ہی ان اقدامات کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آیا۔
تاہم، ایک شہری کا بیان پورے شہر یا صوبے کی مجموعی صورتِ حال کی نمائندگی نہیں کرتا۔ مختلف علاقوں میں حالات مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے عوامی ردعمل، کاروباری سرگرمیوں اور مواصلاتی خدمات کے بارے میں جامع تصویر سامنے آنے کے لیے مزید قابلِ اعتماد معلومات درکار ہیں۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ آئینی اور انتظامی تبدیلیوں کے تناظر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی دستیابی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ان کے ذریعے شہری معلومات حاصل کرتے اور ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ متعلقہ حکام کی وضاحت سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا سروسز میں واقعی کوئی تعطل آیا ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش، مٹھائی تقسیم کرنے کی اطلاعات اور عوامی ردعمل سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ بنوں کے ایک شہری کا بیان صرف ان کے علاقے کی صورتِ حال سے متعلق ہے اور اسے پورے صوبے پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
ماخذ: فراہم کردہ متن، سرکاری ذرائع ابلاغ سے منسوب رپورٹس