Latest news

مولانا فضل الرحمان کا انکشاف: مطالبات تسلیم ہونے پر پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے کو تیار تھی

Spread the love

محمود احمد, October11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انہیں آگاہ کیا تھا کہ مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں وہ اسلام آباد کی جانب اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ثالثی کی کوششیں کیں، تاہم مذاکرات کے دوران ہی انہیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔

اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت سے واضح طور پر پوچھا تھا کہ آیا وہ لانگ مارچ ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ ان کے بقول، پارٹی رہنماؤں نے جواب دیا کہ اگر ان کے مطالبات مان لیے جائیں تو وہ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف سے صبح سویرے رابطہ

مولانا فضل الرحمان کے مطابق انہوں نے اتوار کی صبح فجر کے وقت وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا اور ملاقات کے لیے روانہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے صبح تقریباً چھ بجے ملاقات ہوئی، جس میں پی ٹی آئی کے مطالبات اور جاری سیاسی صورتِ حال پر بات چیت کی گئی۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا انتظام کیا جائے گا اور ان کے علاج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاملے پر کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے بقول، ملاقات کے بعد جب وہ واپس آئے تو صبح ساڑھے نو بجے انہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم متعلقہ سفارشات کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کریں گے۔

ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے سے آگاہ کیے جانے کا دعویٰ

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صبح تقریباً ساڑھے دس بجے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے انہیں فون کیا اور بتایا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے جا رہی ہے۔

ان کے بیان کے مطابق، یہ اطلاع ایسے وقت میں دی گئی جب وہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات اور لانگ مارچ ختم کرانے کی کوششوں کے باوجود فریقین کے درمیان کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔

سیاسی مذاکرات اور آئینی فیصلے پر سوالات

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پہلے سے جاری سیاسی اختلافات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس میں بیان کردہ تفصیلات مذاکرات کے آخری مراحل، وزیراعظم سے رابطوں اور کابینہ کے فیصلے سے متعلق ان کا مؤقف سامنے لاتی ہیں۔

تاہم، مذاکرات میں ہونے والی گفتگو اور مختلف ملاقاتوں کی تفصیلات مولانا فضل الرحمان کے بیان سے منسوب ہیں۔ اس معاملے کی مکمل تصویر کے لیے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کا مؤقف بھی اہم ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس سے متعلق فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطالبات، وزیراعظم سے ملاقات میں ہونے والی گفتگو اور ایمرجنسی کے فیصلے سے متعلق وقت کی تفصیلات ان سے منسوب ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ماخذ: مولانا فضل الرحمان سے منسوب پریس کانفرنس، فراہم کردہ متن