

منصور احمد,October12,2026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء
صحافی اور عوام راج تحریک کے بانی اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ نامعلوم افراد اتوار اور پیر کی درمیانی شب لاہور میں ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ رات تقریباً تین بجے پیش آیا، تاہم اہلِ خانہ کو تاحال معلوم نہیں کہ اقرار الحسن کہاں ہیں اور انہیں کس ادارے یا کس کی تحویل میں رکھا گیا ہے۔
فرح اقرار نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں بتایا کہ رات کے وقت دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے پر وہ باہر آئیں۔ ان کے بقول، جب انہوں نے ٹیرس سے نیچے دیکھا تو چند افراد گھر کے صحن میں جبکہ کچھ باہر موجود تھے۔ ان افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور اقرار الحسن کو باہر لانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
فرح اقرار کے مطابق، بعد ازاں ان افراد نے گھر کا نچلا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کے بعد اوپر کا رخ کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جب اقرار الحسن نیند سے بیدار ہو کر باہر آئے تو انہیں پکڑ کر ساتھ لے جایا گیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے جائی گئی۔
اہلِ خانہ کو گرفتاری یا حراست کی تفصیلات معلوم نہیں
فرح اقرار کے مطابق، گھر آنے والے افراد کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، جن کے بازوؤں پر انہوں نے ’’این سی سی آئی اے‘‘ لکھا ہوا دیکھا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) پاکستان کا سرکاری ادارہ ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ مذکورہ افراد واقعی اسی ادارے سے تعلق رکھتے تھے۔
فرح اقرار کا کہنا ہے کہ اہلِ خانہ نے ان افراد سے بار بار پوچھا کہ آیا ان کے پاس گرفتاری کے وارنٹ ہیں اور وہ کس ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں، لیکن ان کے بقول کسی نے اپنی شناخت یا کارروائی کی قانونی بنیاد واضح نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ معاملہ باقاعدہ گرفتاری کا ہے یا مبینہ اغوا کا، کیونکہ ان کے مطابق افراد سادہ لباس میں تھے اور انہوں نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔
این سی سی آئی اے کے دفتر اور تھانے سے رجوع کرنے کا دعویٰ
فرح اقرار کے مطابق، واقعے کے بعد وہ اقرار الحسن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے این سی سی آئی اے کے دفتر گئیں، جہاں مبینہ طور پر انہیں بتایا گیا کہ متعلقہ عملہ اس وقت موجود نہیں اور وہ صبح 10 بجے دفتر کھلنے کے بعد دوبارہ آئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے بقول پولیس نے درخواست وصول نہیں کی۔ فرح اقرار کا کہنا ہے کہ پولیس نے انٹرنیٹ سروس کی بندش کو کارروائی میں رکاوٹ قرار دیا اور ایک رسید پر تحریری طور پر درج کیا کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث درخواست کو سسٹم میں درج نہیں کیا جا سکتا۔
اقرار الحسن کے وکیل میاں اشفاق علی نے بھی بتایا کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ ان کے موکل کو کس مقدمے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ وکیل کے مطابق مبینہ اغوا سے متعلق درخواست جمع کرانے کی کوشش کی گئی، لیکن حکام نے اسے وصول نہیں کیا۔
تاحال فراہم کردہ معلومات میں اقرار الحسن کی موجودہ جگہ، ان کی قانونی حیثیت یا کسی سرکاری ادارے کی جانب سے ان کی گرفتاری کی تصدیق شامل نہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر فرح اقرار اور وکیل میاں اشفاق علی سے منسوب فراہم کردہ بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گھر میں داخلے، سامان لے جانے، درخواست وصول نہ کیے جانے اور اقرار الحسن کی مبینہ حراست سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ کسی سرکاری ادارے کی جانب سے گرفتاری یا حراست کی تصدیق سامنے آنے تک واقعے کی قانونی نوعیت غیر واضح ہے۔
ماخذ: فیس بک میڈیا سیل، بی بی سی اردو، لاہور نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز لاہور۔