

کاشف عباسی ,October12,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بکتر بند پولیس گاڑیوں نے گشت کیا، جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی۔ دوسری جانب ایمرجنسی کے باعث متعدد تعلیمی ادارے بند رہے اور طلبہ کو گھروں کو واپس جاتے دیکھا گیا۔
صوبے میں انتظامی تبدیلیوں کے ساتھ وفاقی حکومت نے صوبائی معاملات میں معاونت اور مشاورت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس اقدام کا مقصد موجودہ انتظامی صورت حال میں صوبے کے معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے مشاورتی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے تحت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونین، ایڈووکیٹ جنرل اور بعض دیگر آئینی عہدیداروں کو فوری طور پر غیر فعال کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس کے ساتھ صوبائی پولیس اور بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر تبادلوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
فوج کی تعیناتی اور آئینی دفعات کا حوالہ
فراہم کردہ متن کے مطابق وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے ہیں، جبکہ آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو صوبائی حکومت کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔
ان آئینی دفعات کے دائرۂ کار میں فرق ہے۔ آرٹیکل 232 ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق ہے، آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں اقدامات سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 245 مسلح افواج کے فرائض اور سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے ان کی طلبی سے متعلق ہے۔ ان دفعات کے تحت کسی اقدام کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ سرکاری اعلامیوں اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔
صوبائی انتظام اور عوامی معمولات
پشاور میں پولیس کی اضافی نفری اور بکتر بند گاڑیوں کی موجودگی کے دوران متعدد تعلیمی اداروں کی بندش نے شہری معمولات کو بھی متاثر کیا۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں یہ واضح نہیں کہ تمام تعلیمی ادارے بند تھے یا صرف مخصوص اضلاع اور علاقوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔
مشاورتی کونسل کے قیام کے بعد اس کی ذمہ داریوں، اختیارات اور صوبائی محکموں کے ساتھ رابطہ کاری کی تفصیلات اہم ہوں گی۔ کونسل کے عملی کردار کا اندازہ اس کے اجلاسوں، جاری کردہ فیصلوں اور متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشنز سے لگایا جا سکے گا۔
صوبے میں سکیورٹی انتظامات، سرکاری عہدیداروں کی تبدیلیوں اور انتظامی ڈھانچے میں ردوبدل کے تناظر میں آئندہ دنوں میں حکومتی اقدامات اور شہری زندگی کی بحالی پر توجہ رہے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گورنر راج، ایمرجنسی، فوج کی تعیناتی اور مشاورتی کونسل کے اختیارات سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ آئینی دفعات کے اطلاق اور انتظامی فیصلوں کی قانونی حیثیت کے لیے متعلقہ سرکاری اعلامیوں اور آئینی متن کا جائزہ ضروری ہے۔
ماخذ: وزارتِ داخلہ اسلام آباد، گورنر ہاؤس پشاور / نیوز اینڈ نیوز پشاور۔