Latest news

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، تین ماہ میں نتائج دکھانے کا ہدف مقرر

Spread the love

کاشف عباسی ,October12,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت اور وفاقی اداروں کے درمیان رابطہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی صدارت میں پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کرنے، پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے اور انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے امور پر بات کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے سکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کو بعض حالات میں مؤخر کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام کے تحفظ اور امن و امان کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

پولیس اور سی ٹی ڈی کی ضروریات پوری کرنے کی ہدایت

فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ انہوں نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کی تمام جائز ضروریات پوری کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے خلاف جاری کارروائیوں میں یہ ادارے پہلی دفاعی صف کا کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں مطلوبہ وسائل اور انتظامی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے۔

گورنر نے اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے بقول ماضی میں مختلف اداروں کے درمیان مطلوبہ ہم آہنگی کا فقدان رہا، تاہم اب تمام متعلقہ اداروں کو ایک سمت میں کام کرنا ہوگا تاکہ سکیورٹی اقدامات کے نتائج واضح طور پر سامنے آ سکیں۔

تین ماہ میں کارکردگی دکھانے کا ہدف

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت نے موجودہ ٹیم پر اعتماد کیا ہے، اس لیے متعلقہ حکام کو اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ حالات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کام گزشتہ 13 برس میں نہیں ہو سکا، اسے آئندہ تین ماہ میں کر کے دکھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے سرکاری افسران کو خبردار کیا کہ ذمہ داریاں نبھانے اور عملی نتائج دینے والوں کو کام جاری رکھنے کا موقع ملے گا، جبکہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہنے والے افسران کی جگہ دوسرے اہلکار تعینات کیے جا سکتے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی کے مطابق حکومت محض نمائشی اقدامات یا اعلانات پر اکتفا نہیں کرنا چاہتی بلکہ امن و امان کی صورتحال میں ایسی بہتری لانا چاہتی ہے جسے عوام اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر سکیں۔

امن سے سرمایہ کاری اور ترقی کی راہ ہموار ہوگی

گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن، استحکام اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں ترقی اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے وسائل موجود ہیں، تاہم پائیدار امن کے بغیر ان امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانا مشکل ہوگا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، سکیورٹی فورسز کی استعداد میں اضافے اور انتظامی کارکردگی پر توجہ سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب خیبر پختونخوا میں سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور انتظامی اقدامات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ تاہم مقرر کردہ تین ماہ کے ہدف کی کامیابی کا اندازہ عملی اقدامات، سکیورٹی صورتحال اور عوام کو حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر ہی لگایا جا سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اجلاس میں دیے گئے بیانات اور تین ماہ میں نتائج دکھانے کا ہدف فراہم کردہ خبر کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔ اس خبر میں کسی مخصوص سکیورٹی کارروائی کے نتائج یا امن و امان میں بہتری کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔ تصاویر نمائندہ ہیں، انہیں اسی اجلاس کی مستند تصاویر نہ سمجھا جائے۔

ماخذ: گورنر ہاؤس پشاور، وزارتِ داخلہ اسلام آباد / نیوز اینڈ نیوز پشاور۔