Latest news

ٹرمپ کا اعتراف: ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے میں شاید حد سے آگے نکل گئے

Spread the love

محمود احمد, October13,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اکتوبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے معاملے میں ممکن ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی حد سے زیادہ آگے بڑھ گئے ہوں۔ ان کے مطابق ایرانی اعلیٰ قیادت کے بعض ارکان کی ہلاکتوں کے بعد یہ طے کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ مذاکرات کے لیے تہران میں کن عہدے داروں سے رابطہ کیا جائے۔

ٹرمپ نے ریاست اوہائیو میں اپنے حامیوں کے ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شاید ایران کے رہنماؤں کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ سخت کارروائی کی گئی، کیونکہ اب یہ بھی واضح نہیں کہ امریکہ کو بات چیت کے لیے کس سے رابطہ کرنا چاہیے۔ ان کا اشارہ ان ایرانی رہنماؤں اور اعلیٰ عہدے داروں کی جانب تھا جو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔

امریکی صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد سفارتی رابطوں کے حوالے سے پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ان رہنماؤں کے نام یا مذاکرات کے لیے ممکنہ ایرانی نمائندوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن کو ابھی مکمل یقین نہیں کہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں فیصلے کس طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بیان سے بھی ایران میں فیصلہ سازی کے موجودہ ڈھانچے کے بارے میں امریکی انتظامیہ کی غیر یقینی صورتِ حال کا اشارہ ملتا ہے۔

ٹرمپ نے اسی اجتماع سے خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایران کو دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست بھی قرار دیا۔

ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے اور جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکی بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی کارروائیوں اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے صورتِ حال غیر یقینی ہے۔ ٹرمپ کے تازہ بیان میں سخت فوجی کارروائیوں کے اثرات اور مذاکرات کے لیے رابطوں کی دشواری کا ذکر نمایاں ہے، تاہم اس سے امریکی پالیسی میں کسی باضابطہ تبدیلی کا اعلان نہیں ہوتا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ٹرمپ کے بیان کو ایران کی قیادت کے خلاف کارروائیوں اور مذاکراتی رابطوں سے متعلق ان کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امریکی حکومت نے فوجی حکمتِ عملی تبدیل کرنے یا فوری مذاکرات شروع کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔

ماخذ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب اوہائیو میں انتخابی اجتماع سے خطاب؛ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے منسوب بیان۔