

محمود احمد, October13,2026
جنیوا (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اکتوبر 2026ء
بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر (آئی سی آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث شہری آبادی کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ تنازعات میں مزید شدت سے انسانی بحران سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
منگل کو جاری بیان میں تنظیم کی صدر میرجانا سپولیارچ نے کہا کہ خطے میں فوجی کارروائیوں کی ناقابلِ قبول قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، سعودی عرب میں حالیہ ہلاکتیں، زخمی ہونے کے واقعات اور تباہی اس بات کی ایک اور مثال ہیں کہ مسلح تنازعات کس طرح شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے یمن کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہلاکتوں، نقل مکانی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ عدن اور صنعا سمیت مختلف علاقوں میں بنیادی سہولتوں کو پہنچنے والا نقصان پہلے سے مشکلات کا شکار آبادی کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
یمن میں انسانی بحران پر تشویش
یمن میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی نے ملک کی معیشت، صحت کے نظام اور بنیادی شہری سہولتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں شہریوں کی نقل مکانی اور ضروری خدمات کی فراہمی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
انسانی امدادی اداروں کے لیے متاثرہ آبادی تک خوراک، ادویات، صاف پانی اور دیگر ضروری اشیا پہنچانا اہم چیلنج ہے۔ اگر لڑائی میں مزید شدت آتی ہے تو امدادی سرگرمیوں اور شہریوں کی روزمرہ زندگی پر اس کے منفی اثرات بڑھ سکتے ہیں۔
آئی سی آر سی نے تنازعات میں شامل فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں اور شہری املاک کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کریں۔ اس قانون کے تحت شہریوں اور فوجی اہداف میں فرق کرنا اور شہری آبادی کو غیر ضروری نقصان سے بچانے کے لیے احتیاطی اقدامات کرنا ضروری ہے۔
شہری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ ضروری
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات صرف براہِ راست لڑائی تک محدود نہیں رہتے بلکہ پانی، بجلی، صحت، ایندھن اور نقل و حمل جیسی ضروری خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان سہولتوں کو نقصان پہنچنے سے عام شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بے گھر افراد کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔
میرجانا سپولیارچ نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں فوجی کارروائیاں مزید پھیلتی ہیں تو اس کے نتائج شہری آبادی کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ تنظیم نے کشیدگی میں کمی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر کی صدر کے بیان اور یمن کی انسانی صورتحال سے متعلق دستیاب معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ہلاکتوں، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچے کے نقصانات سے متعلق تمام دعوے ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب ہیں؛ اس خبر میں کسی مخصوص علاقے کے نقصانات کے غیرمصدقہ اعداد و شمار شامل نہیں کیے گئے۔
ماخذ: بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر (ICRC)۔