Latest news

اردوغان کا سعودی ولی عہد کو حوثی حملوں کے خلاف حمایت کا یقین

Spread the love

محمود احمد, October13,2026

انقرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اکتوبر 2026ء

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے حوثی حملوں کے معاملے پر سعودی عرب کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ترک صدارتی دفتر کے مطابق، گفتگو میں علاقائی سلامتی اور خطے میں جاری کشیدگی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اردوغان نے حوثیوں کے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ترکی اس چیلنج سے نمٹنے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ اس صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا۔

یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور علاقائی سلامتی کے مسائل مختلف ممالک کے سفارتی رابطوں کا اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے خطے میں سلامتی، سیاسی تعاون اور مشترکہ چیلنجز پر مشاورت کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔

ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کا تناظر

ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع، سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب خطے میں سلامتی کے مسائل اور علاقائی تنازعات کے باعث مختلف ممالک اپنے دفاعی تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔ تاہم، معاہدے کی موجودگی بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ کسی مخصوص تنازع میں تینوں ممالک لازماً ایک ہی نوعیت کا فوجی ردعمل دیں گے؛ اس کا انحصار متعلقہ حالات اور معاہدے کے اطلاق پر ہوگا۔

ترک صدارتی دفتر کے بیان میں سعودی عرب کی حمایت اور حوثی حملوں کی مذمت کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے کسی مخصوص مشترکہ فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اردوغان اور محمد بن سلمان کی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق تفصیلات ترک صدارتی دفتر کے 13 اکتوبر 2026ء کے بیان پر مبنی ہیں۔ دفاعی معاہدہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پایا تھا، نہ کہ صرف ترکی اور پاکستان کے درمیان۔ دستیاب سرکاری بیان میں حوثی حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کی حمایت کا ذکر ہے، لیکن کسی نئی مشترکہ فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔

ماخذ: ترک صدارتی دفتر، ترکی؛ پاکستان کی وزارتِ خارجہ؛ ترکی کے ڈائریکٹوریٹ آف کمیونیکیشنز۔